سقوط ڈھاکہ جیسے نوحے

نازیہ مصطفیٰ

وہ اڑھائی برس کا تھا، جب 1938ء میں اُس کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ شیر خوارگی میں ہی یتیم ہونے پر اُس پر دکھوں کے سائے کچھ اور گہرے ہوگئے، لیکن ماں نے عالی ہمت کے ساتھ محنت مزدوری کرکے اُسے اور اس سے بڑی تین بہنوں کو پالا۔ بچہ بڑا ہونہار تھا ، ماں کی محنت کو اُس نے ضائع نہیں جانے دیا اور کامیابی کے ساتھ تعلیم کی منزلیں طے کرلیں۔ 1959ء میں انگریزی ادب میں ماسٹر کرنے کے بعد مختصر عرصے میں لیکچرر، صحافی اور سرکاری پی آر او کی مختلف ملازمتیں کرنے کے بعد 1964ء میں وہ مسلح افواج میں شامل ہوگیا۔ 1970ء میں اُسے میجرکے رینک پر ترقی دے کر ڈھاکہ میں تعینات کردیا گیا۔اُسکی مشرقی پاکستان میں تعیناتی کے دوران ہی سقوط ڈھاکہ کاسانحہ رونما ہوگیا اور اس میجر کو بھی جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ دوسال بھارتی اسیری میں رہنے کے بعد مشرقی پاکستان کے سانحے کے تناظر میں اُس نے دو اہم کتابیں لکھیں۔ ایک کتاب ’’ہمہ یاراں دو زخ ‘‘ تھی۔ دوسری کتاب ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ میں میجر نے لکھا کہ ’’میںسانحہ مشرقی پاکستان سے کافی عرصہ پہلے ڈھاکا پہنچا تو ہوائی اڈے پر ایک بنگالی نے میرے لیے قلی کا کام سرانجام دیا، میں نے اُس بنگالی کو کچھ پیسے دینے چاہے تو ہوائی اڈے پرمجھے لینے کیلئے پہنچنے والے فوجی افسر نے کہا: سر! ان حرام زادوں کا دماغ خراب نہ کریں‘‘۔ استقبال کیلئے آنیوالے ساتھی فوجی افسر کے اِس کرخت ’’تخاطب اور کلام‘‘پر ششدر رہ جانیوالا شستہ گو فوجی افسر کوئی اور نہیں بلکہ صاحب طرز لکھاری اور ادیب بریگیڈیئر (اُس وقت میجر) صدیق سالک شہید تھا۔

بریگیڈیئر صدیق سالک کے تحریر کردہ اِس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قیام پاکستان کے صرف پندرہ بیس سال بعد ہی پاکستان کے دونوں بازؤوں کے باسیوں کے درمیان تعلقات اور ایک دوسرے کے بعد سوچ کتنے پہلو اور زاویے بدل چکی تھی! اس میں کوئی شک نہیں کہ متحدہ پاکستان کے مقتدر طبقے نے اس بات کو یکسر بھلادیا تھا کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے جبر کے شدید احساس نے بنگالی مسلمانوں میں سیاسی شعور کی سطح کو بلند کیا تھا ، اسی سیاسی شعور کے سبب 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی اور بنگالیوں نے اس سیاسی شعور کو تحریکِ پاکستان کے قالب میں ڈھال دیاتھا،لیکن اب وہی بنگالی ایک خاص سوچ رکھنے والوں کیلئے ’’حرام زادے‘‘ بن چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ پھر وہی ہوا جس کا کسی نے خیال تک نہ کیا تھا کہ جن بنگالیوں نے 1947 میں پاکستان بنایا وہ قیام پاکستان کے محض 24 سال بعد پاکستان سے الگ ہونے پر مائل ہوگئے یا مائل کردئیے گئے؟لیکن جب تک اس خطرے کی شدت کا احساس ہوا تو اُس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔اسی احساس کو بریگیڈیئر صدیق سالک نے اپنی کتاب میں ایک دوسری جگہ اِس طرح لکھا ہے کہ ’’میں ڈھاکا پہنچا تو مجھے میرے فوجی ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ رہنے کے لیے بھاری سامان نہ خریدنا کیونکہ پتا نہیں ہمیں کس وقت یہاں سے جانا پڑ جائے‘‘۔
دشمن تو بلاشبہ تھا ہی کسی موقع کی تاڑ میں لیکن اپنی غلطیوں سے ہم نے یہ موقع پلیٹ میں رکھ کر دشمن کو پیش کردیا، یوں ہماری غلطیوں سے فائدہ اٹھاکر دشمن نے مشرقی پاکستان کے رہنے والوں میں احساس محرومی اور احساس ’’غلامی‘‘ کو خوب پروان چڑھایا اورسانحہ مشرقی پاکستان کے بعد دشمن نے نظریہ پاکستان کو بحر ہند میں غرق کرنے کا مکروہ نعرہ بھی لگایا، لیکن اس کے باوجود بھارت نے پاکستان توڑنے میں اپنے کردار کو کبھی تسلیم نہ کیا تھا، مگر اب پینتالیس برس بعد سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے لیے بنگلہ دیش کی جانب سے اعلیٰ ترین ایوارڈ اور بنگلہ دیش بنانے میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے بیان کے بعد اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ اِس خطے میں بھارت کی بدمعاشی اور دادا گیری کسی ردعمل کا نتیجہ ہے نہ ہی یہ حال ہی میں منکشف ہونے والی کوئی نئی چیز ہے بلکہ بھارتی نیتاؤں کے حالیہ بیانات تو ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کبھی پاکستان کا وجود برداشت نہیں کرپایا۔ اسی لیے تو اپنے دورہ بنگلہ دیش میں بھارت کے موجودہ وزیراعظم نے سینہ تان کر کہا کہ ’’بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی، ہر بھارتی چاہتا تھا کہ آزاد بنگلہ دیش کا خواب حقیقت بنے،جب بنگلہ دیش کے آزادی کی لڑائی لڑنے والے بنگلہ دیشی اپنا خون بہا رہے تھے، تو بھارتی بھی انکے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کر رہے تھے اوراس طرح بھارتیوں نے بنگلہ دیش کا خواب پورا کرنے میں مدد کی‘‘۔وزیر اعظم مودی نے یہاں تک انکشاف نما اعتراف کیا کہ ’’سال 1971ء میں جب بنگلہ دیش کی آزادی کے جنگجوؤں کی حمایت میں دہلی میں ستیہ گرہ تحریک چلی تھی تو ایک نوجوان رضاکار کے طور پر وہ بھی اس میں شامل ہونے آئے تھے‘‘۔
پاکستان عرصہ دراز سے کہے چلا آرہا تھا کہ بھارت اپنے خودمختار ہمسایہ ممالک کیخلاف منفی کردار ادا کررہا ہے اور ان کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں، لیکن عالمی برادری نے کبھی بھارت کے اِس رویے کا نوٹس نہ لیا، البتہ اب نریندر مودی کے بیان سے پاکستانی موقف کی تصدیق ضرور ہوگئی ہے، لیکن المیہ تو یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا مستحق ہونے کے دعویدار بھارتی حکمران نہ صرف اقوامِ متحدہ کے میثاق کی خلاف ورزی کرنیوالے اقدامات میں ملوث ہیں بلکہ دیگر ریاستوں کے داخلی معاملات میں اس مداخلت کی یاد تازہ کرکے اِس پر فخر بھی کرتے ہیں۔جہاں ایک جانب بھارت کا رویہ مجرمانہ ہے تو کیا وہاں بھارتی رویے پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک نہیں ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی کے اعتراف کے بعد یہ بھی ثابت ہوگیا کہ داخلی کمزوریوں کے باوجود 1971ء میں پاکستان توڑنے کی اصل سازش باہر بیٹھے دشمن نے کی تھی لیکن بھارتی وزیراعظم کے اس اعتراف نے پاکستانیوں کے پرانے زخم بھی تازہ کر دیے ہیں اوریہ زخم بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہیںاور المیہ تو یہ ہے کہ آج تک یہ اندرونی زخم مندمل ہوسکے اور نہ ہی ہم نے خود کبھی ان زخموں کا علاج کرنے یا کرانے کی کوشش کی۔ بغداد، غرناطہ، صیقلیہ اور دلی سمیت مسلمانوں کو جتنے بھی سقوطوں کا سامنا کرنا پڑا،وہاں داخلی کمزوری کا عنصر نمایاں رہا اور وہاں دشمن باہر سے جارحیت کرنے آیا تھا لیکن سقوط ڈھاکہ ان تمام میں اس لیے منفرد ہے کہ داخلی کمزوریوں اور اندرونی ریشہ دوانیوں کے سبب مقامی آبادی دشمن کے ساتھ کھڑی ہوگئی یا اُسے ایسا کرنے پر مجبور کردیا گیا اور یوں نوے ہزار مسلم فوجیوں نے تقریبا لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔
قارئین کرام !! کیا یہ المیہ نہیں کہ پینتالیس سال گزرنے کے باوجود نہ سقوطِ ڈھاکا کے ذمہ داروں کا تعین ہوا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی کو سزا دی گئی؟مانا کہ پاکستان کا مشرقی بازو کاٹ کر الگ کرنے کی سازش باہر سے ہوئی، لیکن اس سازش کا توڑ کرنے پر مامور اندر بیٹھے لوگ کیا کررہے تھے؟ یہ بھی تسلیم کہ سانحہ سقوط ڈھاکہ کچھ ’’غداروں‘‘ کی کارستانی کے باعث پیش آیا، لیکن اس سانحے کو روکنے کیلئے محب وطن طبقے نے میدان عمل میں کونسا تیر مارلیا تھا؟یہ بھی بجا کہ بنگلہ دیش کا قیام دشمنوں کی چلی ہوئی خطرناک چالوں کا نتیجہ تھا لیکن اس اہم ترین موقع پر دوستوں نے ہماری کیا مدد کی؟آخر ہم کب تک گلشن کے تنگی داماں کا علاج کرنے کی بجائے کلیوں کی کمی کا رونا روتے رہیں گے؟آخر ہم مستقبل کا مرثیہ لکھنے کے قابل کب ہوں گے، آخر ہم کب تک کبھی سقوط بغداد اور کبھی سقوط صیقلیہ کا ماتم کرتے رہیں گے؟ آخر ہم کب تک سقوط غرناطہ اور سقوط ڈھاکہ جیسے نوحے لکھتے رہیں گے؟

http://www.nawaiwaqt.com.pk/adarate-mazameen/11-Jun-2015/391587

Rohingya Muslim killing and social media

First I want to clear that the massive extremism on Burmese Muslims is strongly condemned and the the silence of media, humane rights organizations is more shameful.

Social media is very active in the situation. Facebook users continually condemn and and express their anger about the heart shocking situation of Rohingya Muslims. And thus I’m thankful to them all to raise voice against the “Burmese government”.

But these days many pictures are being circulated on Facebook regarding Muslims killings in Burma, which is a total hoax and being used by Islamic Extremists in Pakistan to provoke anger and violence in public, here are some of the pictures around the world which are being spread on the name of Muslims Killings

Earth quake in China

Tibatian burn himself on the visit of Chinese President in India

Rohingya

Thai people conflict with police

Purpose of the post:
The purpose of the this post is just to clarify and tell you how social media ignite hatred and prejudice in our youth.

Social media and networking sites, if used properly, can be an impressive tool in spreading awareness amongst its users, but it can be an equally dangerous media as well, if misused.

References:
http://www.bbc.com/news/blogs-trending-32979147
http://www.smh.com.au/articles/2004/10/27/1098667842425.html
http://www.tibetancommunity.be/news/chinaquake.html
https://themuslimissue.wordpress.com/2013/05/11/bangladesh-the-country-of-origin-of-innocent-burmese-muslims-is-on-a-slaughter-spree-of-hindus/

مشرف کا ایک بیان ، دھرنے اور فوج

آج کل پرویز مشرف کی انڈین میڈیا پر انٹرویو کی تعریفیں کی جاری ہیں، کرنی بھی چایئے، انڈیا ہمارا دشمن ملک جو ہے … پر کیا یہ دوغلا پن نہیں؟ اگر ہے تو کیوں ہے؟

 مجھے وکی لیکس کا وہ بھی بیان یاد ہے مشرف دور کا ، نواز شریف دنیا کے لئے خطرہ ہے ، بنا داڑھی کے ملا ہے  اور ملک کے لیے سوچتا ہے مشرّف ، بینظیر سے واحد سپر پاور امریکا کو کوئی خطرہ نہیں…بلکہ وہ وہی کریں گے جو ان کو کہا جائے گا

 مسئلہ لیڈران نہیں ہم خود ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھوں کٹھپتلی بن کر اپنے پیروں پر کلہاڑیاں مارتے ہیں ، اب دھرنوں سے جو ملک کا نقصان ہوا نا تو نواز نا عمران اور نا قادری کو ہوگا، بلکہ اصل میں اس ملک کو ہورہا ہے جس کے تین بارڈر پر پڑوسی ممالک گولہ باری کرکے ہماری پہلےسے مصروف آرمی کو لڑنے کے لیے اکسا رہے ہیں اور یہی سازش ملک میں بیٹھے سیاسی یتیم ، عمران ، قادری اور چودری برادران، میڈیا کی چند بدنام اینکرز اور میڈیا گروپس کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں، فوج کو اکسا رہے ہیں کے آؤ اور قبضہ کرلو اقتدار پر اور عوام جو پہلے ہی چالیس سال آرمی کے تجربات سے تنگ ہے وہ اپنی ہی فوج کے سامنے کھڑے ہوجائیں، اور ایسے فوج بیرونی اور اندورنی محاذوں میں الجھ جائے اور ملک کے ٹکڑے ہوجائیں

 یہ سب ہم جس دن سمجھ گئے …. اسی دن ہماری جیت ہو جائے گی

 اچھا بات مشرف کی ہو رہی تھی

یہ جو حال اس وقت ہے مشرف کی ہی وجہ سے ہے …وہ کیسے پڑھ لیں :

غیروں کے کہنے پر اپنے ہوائی اڈے دیئے گئے (ایر بیس وغیرہ) تاکہ امریکا بہادر ہمارے پڑوسی ملک میں حملے کرسکے اور لاکھوں بیگناہ لوگ مارسکے اور وہی ہوائی اڈے بعد میں ڈرون کے لیے استمال ہوئے جن کا ہدف افغانستان نہیں بلکہ پاکستان کے علاقہ غیر تھے اور ہم نے اپنے لوگ ہی مروائے،قومی غیرت بیچ کر  دوسرے ملک کو اپنے ملک میں کروائی کی کھلی چھٹی دی… جس کے جواب میں ہماری قوم کو پچاس ہزار جانوں کی قربانی دینا پڑی

اس کے دور میں را، موساد، بلیک واٹر جیسی ایجنسیوں نے اپنے پیر ملک میں جمائے…ان کو ہزاروں ویسے دیے، اجازت دی کے جہاں کروائی کرنی ہے کرو…جو اب بھی بلوچستان کراچی میں سر گرم ہیں، تاکے ملک کو توڑا جا سکے، فرقہ واریت پہلے، لسانی فساد ہوں ، ملک میں انتشار ہو

اسی کے دور میں انڈیا نے ہمارے پانی پر قبضے کئے جو اب جب دل کرے پانی چھوڑ دیتے ہیں اور ملک میں سیلاب آجاتے ہیں

مشرف ہی نے مقبوضہ کشمیر کے بارڈرز پر انڈیا کو آہنی باڑھ لگانے کی اجازت دی اور بےغیرتوں کی طرح ان کو  باڑھ لگاتے ہوئے دیکھتے رہے اور پوری دنیا کو پیغام دیا کے کشمیر انڈیا کا ہے اور کشمیر کاز کو ختم کرکے رکھ دیا ، اخباروں میں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے بارے میں لکھنے پر پابندی لگا دی

ملک کو اور  اسلام کو بد نام کیا: لال مسجد میں معصوم بچیوں کو گییس سے مارا

ہزاروں پاکستانی ڈالر کے بدلے امریکا کو بیچے، عافیہ صدیقی کے ساتھ جو ظلم ہوئے وہ الگ کہانی ہے، کیسے اس کو کراچی سے بچوں سمیت اغوا کیا گیا اور کیسے مردوں کی جیل میں اس پر ظلم ہوئے، بچوں کے ساتھ کیا ہوا وغیرہ

ڈاکٹر قدیر جسے اس محسن کو جس کی وجہ سے ہم پوری دنیا میں سر اٹھانے کے قابل ہوئے اس کو نظر بند کر دیا، ان سے مافی منگوائی کے انہوں نے ایٹم بم کی ٹیکنالوجی ایران اور لیبیا کو بیچی ہے، جب کے ایک اکیلا سائںس دان بغیر آرمی کی مدد کے ایسا کر ہی نہیں سکتا

 بہرحال مشرف سے عوام کی نفرت ایک انڈیا مخالف بیان سے جانے والی نہیں ہے ، یہ اس کی اور اس کے جوتے چاٹنے والوں کی  خام خیالی ہے

 خیر اب آپ خود سوچھیں ہمیں ایک ہو کر ایک قوت بننا ہے یا یوںہی دن رات ایک دوسرے پر الزام اور گالیاں دینی ہیں؟ اور غیر ملکی طاقتوں کو مظبوط کرنا ہے ؟

جزاک اللہ خیر

ایک ڈرونا خواب

کل رات میں نے کافی عرصے بعد ایک خواب دیکھا

میں اور میری باجی گلی میں کھیل رہے ہیں. میں شاید پانج سال کا ہوں اور باجی شاید آٹھ سال کی ہیں ، اور ہمارے پاس ایک بوتل میں کوئی عجیب سا محلول  ہے ، جس کا رنگ شاید سنہری ہے یا شاید ہرا ہے (پتہ نہیں خوابوں میں رنگ نظر آتے بھی ہیں یا نہیں).
خیر ہم کچھ شرارت کرنے کا سوچ رہے تھے ، اچانک ہماری نظر ایک آدمی پے پڑی جو گلی کے کونے میں کھڑا ہوا تھا یا کہیں جا رہا تھا ، باجی اور میں نے سوچا اس  آدمی کو وہ محلول پلاتے ہیں اور ہمارا خیال تھا کے یہ محلول پینے سے کوئی جادو ہوگا اور بڑا مزہ آئے گا ، ہم نے اس آدمی کے پاس جاکے اس سے کہا یہ بڑی اچھی چیز ہے اس کو پی کے دیکھیں  اور اس کو وہ چیز پلا دی اور اچانک اس آدمی کی شکل بدلنا شروع ہوگئی اور وہ ایک خونخوار جانور نما انسان بن گیا اور ہمارے پیچھے بھاگنا شروع  ہوگیا.
ہم بھی جان بچانے کے لیے گھر کی طرف بھاگنا شرو ع ہوگئے اور بھاگتے بھاگتے چلا رہے تھے “ہم شیعہ ہیں ہمیں بچاؤ، ہم شیعہ ہیں ہمیں بچاؤ” (جب کے حقیقت میں ہم سنی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں)

باجی اور میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے وہ خوفناک بلا ہم سے صرف ایک قدم پیچھے تھی ، ہم نے فورا دروازہ لاک کیا اور ایک بٹن دبایا جس سے پورے گھر کے چارو طرف ایک لوہے کی دیوار کھڑی ہوگئی اور ہماری جان بچ گئی لیکن ڈر کے مارے ہماری حالت بہت خراب تھی اور ….. میری آنکھ کھل گئی میں نے دیکھا کے ٹی وی ابھی تک چل رہا ہے اور پھر یاد آیا میں نیوز چینل پے ایک خبر دیکھتے دیکھتے سو گیا تھا جس میں ایک  ‘شیعہ’ وکیل جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کہیں جا رہا تھا اس کو ٹارگٹ کرکے مار دیا گیا ہے . اس خبر میں بچوں کے اسکول بیگز بھی دکھائے جا رہے تھے…..جن کو ظالموں نے ان کے باپ کے ساتھ قتل کردیا تھا ، لیکن وہ تو ابھی چھوٹے تھے شیعہ یا سنی کیا ہوتا ہے ان کو تو ابھی اس کا پتہ بھی نہیں تھا ؟

میرا خواب تو صرف ایک ڈرونا خواب تھا لیکن ان معصوم بچوں کا مارنا خواب نہیں تھا اور ان کو بڑوں کے مذہبی اختلاف کی وجہ سے مارا جا چکا تھا…….اور مجھے کل رات سے اسی بات کا افسسوس ہے کے کاش ان معصوم بچوں کا مرنا بھی خواب ہی ہوتا ……کاش !

اندھی گولی

کل رات دعوت تھی، ہم سب چھت پر بار بی کیو میں مصروف تھے کے اچانک فائرنگ  کی آواز نے سب کو چونکا دیا ، میں بھی جلدی سے روڈ کی طرف دیکھنے کے لیے چھت کے کونے کی طرف لپکا

نیچے روڈ پے ایک آدمی زمین پے اپنے پیٹ کو پکڑ کے گرا ہوا تھا اور ایک بائیک تیزی سے دوسری طرف جا رہی تھی ، ایک لمحے کے لیے مجھہے لگا کے گرا ہوا آدمی مر چکا ہے لیکن پھر اس کا ہاتھ ہلکا سا ہلنے لگا جیسے وہ مدد کے لیے اشارہ  کر رہا ہو . میں ابھی اس سوچ میں ہی تھا کے کیا کروں ، اپنی گاڑی میں ڈال کے اسے ہسپتال لے کے جاؤں یا ایمبولینس کو فون کرکے بلاؤں، اگر میں ہسپتال لے کر گیا تو پولیس والے تنگ کریں گے .. ایسے میں کچھ پیدل اور کچھ بائیک والے رکنا شروع ہوئے اور گررے ہوئے آدمی کو ہلا کے، اس سے بات کرکے جاننے کی کوسش کر رہے تھے کے ہوا کیا تھا.

پھر ایک رکشا روکا گیا اور اس میں زخمی آدمی کو ڈال کے ہسپتال کی طرف روانہ کردیا گیا ، لیکن میں سوچتا ہی رہ گیا کے مجھے کیا کرنا چاہیے تھا

جب رش ختم ہوا تو زمین پے خون کو دیکھ کے اور زیادہ دکھ ہونے لگا ، پتہ نہیں کون تھا ، کیوں مارا اس کو، کیا گناہ تھا اس کا، بچ بھی سکے گا کے نہیں … گھر میں اس کی فیملی اس کا انتظار تو نہیں کر رہی ہوگی ؟ کیا اس کی بیٹی دروازے پے اس کا ایسے ہی انتظار تو نہیں کر رہی ہوگی جیسے میری بیٹی کرتی ہے ؟ پھر دماغ میں اس بندے سے ملتے ہوئے لوگ آنا شروع ہوگئے کے کہیں وہ تو نہیں تھا ؟ شاید میں اس کو جانتا تو نہیں تھا ؟

لیکن یہ کوئی پہلی دفع ہونے والا واقعہ نہیں تھا ، کراچی میں تو روز ١٠-١١ لوگ اندھی گولی کا شکار ہوجاتے ہیں ، نہ قاتل کبھی پکڑا جاتا ہے نہ لوگوں کو یہ پتہ چلتا ہے کے مرنے والے کا گناہ کیا تھا اور لوگ ایک بےحسی سے اپنی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں

دعوت

ایک شخص کی ایک تقریب میں بہت زیادہ لوگ آگئے۔ یہاں تک کہ کھانا کم پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

 وہ شخص سٹیج پر گیا  اور اعلان کیا کہ جو لوگ دولہا کی طرف سے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں،  کچھ لوگ کھڑے ہوگئے۔

 پھر اس نے اعلان کیا  جو لگ دلہن کی طرف سے ہیں وہ بھی کھڑے ہوجائیں،  کچھ مزید لوگ کھڑے ہوگئے۔

اب اُس نے اعلان کیا کہ جو جو لوگ کھڑے ہوئے ہیں  وہ دروازے سے باہر نکل جائیں کیونکہ  یہ شادی کی نہیں  میری بچی کے “عقیقہ” کی تقریب ہے۔