ٹرین کا ڈرائیور کون ہے

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جرمن فوج کو فرانس خالی کرنے کا حکم ملا تو جرمن کمانڈنٹ نے افسروں کو جمع کر کے کہا: ھم نازی جنگ ھار چُکے ھیں ، فرانس ھمارے ھاتھ سے نکل رھا ھے۔ یہ سچ ھے اور یہ بھی سچ ھے کہ شاید اگلے 50 برسوں تک ھم کو دوبارا فرانس میں داخلے کی اجازت بھی نہ ملے اس لیئے میرا حکم ھے کہ پیرس کے عجائب گھروں ، نوادرات سے بھرے نمائش گھروں اور ثقافت سے مالا مال ھنر کدوں سے جو کچھ سمیٹ سکتے ھو سمیٹ لو۔ جب فرانسیسی اس شھر کا اقتدار سنبھالیں تو انہیں جلے ھوئے پیرس کے علاہ کچھ نہ ملے

جنرل کا حکم تھا سب افسر عجائب گھروں پر ٹوٹ پڑے اور اربوں ڈالرز کے نوادرات اُٹھا لائے۔ اُن میں ڈوئچی کی مونا لیزا تھی ، وین گوہ کی تصویریں ، وینس ڈی ملو کا مرمریں مجسمہ غرض کہ کچھ نہ چھوڑا ۔ جب عجائب گھر خالی ھو گئے تو جنرل نے سب نوادرات ایک ٹرین پر رکھے اور ٹرین کو جرمنی لے جانے کا حکم دیا۔ ٹریں روانہ تو ھو گئی لیکن شھر سے باھر نکلتے ھی اس کا انجن خراب ھو گیا۔ انجئنیر آئے انجن ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن 10 کلومیٹر طے کرنے بعد اس کے پہیے جام ھو گئے۔ انجئنیر آئے مسئلہ ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ھو گئی لیکن چند کلومیٹر بعد بوائلر پھٹ گیا۔ انجئنیر آئے بوائلر مرمت ھوا اور ٹرین پھر چل پڑی ، ابھی تھوڑی دور ھی گئی تھی کہ پریشیر بنانے والے پسٹن جواب دے گئے۔انجئنیر آئے پسٹن مرمت ھوئے اور ٹرین روانہ ھوئی ۔ٹرین خراب ھوتی رھی اور جرمن انجئنیر اسے ٹھیک کرتے رھے یہاں تک کہ فرانس کا اقتدار فرانسیسیوں نے سنبھال لیا اور ٹرین ابھی فرانس کی حد میں ھی رھی۔
ٹرین کے ڈرائیور کو پیغام ملا کہ ” موسیو بہت شکریہ پر اب ٹرین جرمنی نہیں واپس پیرس آئے گی” ۔ ڈرائیور نے مکے ھوا میں لہرائے اور واپس پیرس روانہ ھو گیا ، جب وہ پیرس پہینچا تو فرانس کی ساری لیڈرشپ اس کے استقبال کے لیئے کھڑی تھی ، ڈرائیور پر گُل پاشی کی گئی پھر اس کے ھاتھ میں مائیک دے دیا گیا ، ڈرائیور بولا: جرمن گدھوں نے نوادرات تو ٹرین میں بھر دیئے لیکن یہ بھول گئے کہ ڈرائیور فرانسیسی ھے اور اگر ڈرائیور نہ چاھے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچا کرتی

عرصے بعد ہالی وڈ نے اس ڈرائیور پر “دی ٹرین” فلم بنائی
اگر اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی “دی ٹرین” کی سٹوری سے کم نہیں ، کبھی انجن فیل ھو جاتا ھے کبھی پہیہ جام ، کبھی پسٹن پھٹ جاتا ھے تو کبھی بوائلر ۔ پہلے دن سے اب تک بحران ھی بحران ھے۔ اس ٹرین کا ڈرائیور اصل میں کوئی اور ھے جو اس کو منزل تک نہیں پہنچنے دے رھا –

مجھے جانتی ہو؟

راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک قصبے میں وکیل استغاثہ نے گواہ پر جرح شروع کی۔

گواہ قصبے کی سب سے قدیم مائی تھی۔
وکیل بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا: مائی بشیراں، کیا تم مجھے جانتی ہو؟
مائی بشیراں: ہاں قدوس۔ میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں جب تم ایک بچے تھے۔ اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو۔ تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔ ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔

وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: مائی بشیراں تم اس شخص کو جانتی ہو؟

مائی بشیراں: اور نہیں تو کیا عبدالغفور کو نہیں جانتی؟ اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔ چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔ ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔

جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہو تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا
۔۔۔( منقول )۔۔۔

یہ بھی کوئی جمہوریت ہے؟

محل کا ماحول بہت سوگوار تھا، چاروں طرف غم اور مایوسی کے بادل چھائےہوئے تھے ، میز کے چاروں طرف لوگ براجمان تھے، لیکن ایک  بڑی سی شاہانہ کرسی خالی تھی، جس پر بادشاہ سلامت نے براجمان ہونا تھا، سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ، لوگ ایک دوسرے سے نگاہیں ملانے سے کترا رہے تھے، دیوار پر قدیم گھڑیال کی سوئی کی ٹک ٹک، خاموشی میں بھی شور مچا رہی تھی، اچانک قدیم لکڑی کے دروازے کے کھلنے کی زوردار آواز سنائی دی تو سب لوگ ہوشیار ہوکر بیٹھ گئے، وہ جانتے تھے بادشاہ سلامت کی آمد ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے تھے کے بادشاہ سلامت سخت غصے میں ہونگے اور ان میں سے کسی ایک یا دو کی شامت آنے والی ہے

بادشاہ سلامت کمرے میں داخل ہوتے ساتھ اپنی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور خاموشی سے میز کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے لوگوں کو باری باری دیکھتے ہیں، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بادشاہ سلامت کی آواز گونجتی ہے: ہاں بولو، کشمیر میں بھی ہم ہار گئے؟ تم لوگوں نے تو بولا تھا کے ہمارا پلڑا بھاری ہے؟ سیٹیں ملیں … وہی بھی دو؟ وہ بھی ایک لاہور کی اور ایک کے پی کے کی؟ کشمیر میں سے تو ایک بھی سیٹ نہیں ملی، اب بولو کیا ہوا ہمارے ساتھ؟

وہ بادشاہ سلامت اصل میں …. بادشاہ کے جہاز رانی کے وزیر نے کچھ کہنے کی کوشش کی. چپ کرو .. بادشاہ سلامت شیر کی طرح دھاڑا، پھر اس کو احساس ہوا کے شیر تو مخالف پارٹی کا انتخابی نشان ہے، فورا جھینپ کر بولا: “یہ بھڑیے کی غراہٹ تھی” … سب باتیں چھوڑوں یہ سوچو کے اب میڈیا پر کیا بولنا ہے، کیا بہانہ بنانا ہے؟ اور بہانہ زوردار قسم کا ہونا چاہیے، پچھلی بار تو تم لوگوں نے مروا دیا تھا، میری بیوی پر کراچی اور ہری پور کی شکست کا سارا الزام لگا کر میری طلاق کروا دی

بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤ تو ایک بات کہوں؟ ایک وزیر اپنی نشت سے کھڑا ہوگیا
بادشاہ بولا : ہاں بولو
سرکار، ہم میڈیا سے یہ بولیں گے کہ کشمیر کا ووٹ کہیں اور ٹرانسفر ہوگیا تھا…وزیر نے فخریہ انداز میں کہا
بادشاہ: پاگل ہو کیا؟ سب سے زیادہ چندے دینے والا وزیر علیم خان ابھی تک پھنسا ہوا ہے جعلی حلف نامے جمع کروانے پر، دوبارہ پھنسنا ہے کیا؟، بیٹھ جاؤ

سرکار میں کوئی آئیڈیا دوں؟ میز پر پڑے سپیکر سے آواز آئی، سپیکر انٹرنیٹ سے منسلک تھا، تم تو چپ کرو فرحان ورک، تمہارا کام مخالفین کے خلاف گھٹیا الزام لگانا اور ٹرینڈ بنانا ہے، اور تم اپنا کام بھی  ٹھیک سے نہیں کر رہے، جب آن لائن آتا ہوں میرے ہی خلاف ٹرینڈز ٹاپ پر ہوتے ہیں، اپنا کام تو ٹھیک سے کرو، اور مائیک پر خاموشی چھا گئی

سرکار میرے پاس ایک آئیڈیا ہے، کیوں نا ہم ووٹوں کی جمع تفریق کرکے ایسے ثابت کریں کہ جیتنے والی پارٹی کے ووٹ ہمارے ووٹ سے کم ہیں؟ ایک وزیر بولا جس کا کام بادشاہ کی ورزش کی تصویریں لگانا تھا

بادشاہ: واہ واہ، نعیم تم تو چھا گئے ہو، زبردست آئیڈیا دیا ہے تم نے، چلو یہی بہانہ فائنل کرتے ہیں ، سب وزیر اپنے اپنے اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ کردو اور میڈیا پر جاکر یہی بولنا کہ  تین چار پارٹیوں کے کل ووٹ جیتنے والی پارٹی سے زیادہ ہیں، یہ بھی کوئی جمہوریت ہے؟ اس سے بہتر تو بادشاہت ہے … ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں صرف اور صرف میری حکمرانی ہو، بادشاہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی

مٹی کے کھلونے

 عبدل نے گھر سے نکلتے ہوئے کہا: اچھا اماں میں جا رہا ہوں
بیٹا…کھو کھو .. ماں نے کھانستے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی
کیا بات ہے اماں؟ عبدل نے پوچھا
بیٹا وہ ڈاکٹر نے کہا تھا دوائی بازار سے خرید لینا، ہسپتال میں دوائی ختم ہوگی تھی، تین سو روپے کی دوائی ہے
اچھا اماں میں آج کوشش کروں گا، دوائی کی پرچی مجھے دے دو
جیتے رہو بیٹا، ماں نے پیار بھری آواز میں کہا
کرن باورچی خانے سے نکل کر ماں اور بھائی کی بات سن رہی تھی، بھائی کے پاس آکر کہنے لگی: بھائی وہ مالک مکان آیا تھا
اچھا؟ کیا کہتا تھا؟ عبدل نے اپنی بہن سے پوچھا
کہنا کیا تھا ، کرائے کا تقاضہ کر رہا تھا، پندرہ سو روپے کے لیے بار بار چکر نہیں لگاسکتا، آج یا کل میں پیسے میرے گھر پر پوھنچا دینا، یہ بولا ہے
اچھ … چھا: عبدل نے بمشکل جواب دیا
اور اپنی مٹی کے کھلونوں اور برتنوں کو اپنی ریڑھی پر لگانے لگا
آج زیادہ لمبا چکر لگاؤں گا تاکہ زیادہ برتن بیچ کر ماں کی دوائی اور کرائے کا کچھ انتظام کرسکوں، کون کون سے علاقے کے چکر لگانے ہیں، لوگ آج کل مٹی کے کھلونے اور برتن کیوں پسند نہیں کرتے، برتن تو کل بارہ سو کے ہیں اس سے اتنے پیسے کیسے جمع ہونگے، یہ سب سوالات کے ساتھ وہ گھر سے نکلا

صبح آٹھ سے گیارہ بچ گئے، ایک برتن بھی نہیں بکا، کسی نے پوچھا بھی نہیں کے مٹی کے برتن اور کھلونے کتنے کے ہیں، لمبا چکر لگانے کے لیے ایک گالی میں گھس گیا، گالی میں گٹر کا ابلتا پانی دیکھ کر اس نے سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی اور ریڑھی کا پہیہ گڑھے میں پھنسا اور پوری رہڑھی الٹ گئی، ایک ایک کرکے سارے مٹی کے برتن اور کھلونے گرنے لگے، کھلونے چور چور ہونے لگے اور عبدل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، سکتے کی حالت میں اپنے مٹی کے برتنوں کو گرتا دیکھ رہا تھا، کانوں میں ماں کی کھانسی اور مالک مکان کی صلواتیں سنائی دینے لگی

میں یہ سب دور سے دیکھ رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ مٹی کے کھلونے والا اپنے کھلونے کیوں نہیں اٹھا رہا اور کیا سوچ رہا ہے؟

آج مرغی دو، کل کام آئے گی

اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ
ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ ،، ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬ ﮔﮭﻨٹے ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ
ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﯾﮧ مرغی ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ھﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ
قاضی ﻧﮯ کہا کہ کوئی بات نہیں ،، ﯾﮩﯽ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ کہ مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽھے
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ بھلا ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ھو گا ؟ مرغی تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯼ تھی پھر ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ سکتی ھے ؟
قاضی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ- ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ اسے غور سے ﺳﻨﻮ،، ﺑﺲ ﯾﮧ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﺱ کے مالک ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ تیری مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے ،، ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ خلاف مقدمہ لے کر ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﺍﻟﻠﻪ سب کا ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ اور مرغی قاضی کو پکڑا دی
قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮنکل ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ دکاندار سے ﮐﮩﺎ کہ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ھے ؟
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ میں نے تو کاٹ دی تھی مگر ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے
ﻣﺮﻏﯽ ﻭالے نے حیران ھو کر پوچھا بھلا وہ ﮐﯿﺴﮯ ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮌ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ ھے ، دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ھوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ قاضی کے پاس چلتے ھیں،، ﺩﻭﻧﻮﮞ نے ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ھﻮﺋﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭھﮯھﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ھﮯ جبکہ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ، ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ جا ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭیہودی کی آنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ،، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎکہ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ کر ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ مقدے ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﻟﻮﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺍپنے آپ کو چھڑا ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ھو کر ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼڑھ ﮔﯿﺎ, ﻟﻮﮒ جب ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟئے ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ تو ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ لیا ﺍﻭﺭ سب اس کو ﻟﮯ ﮐﺮ قاضی ﮐﮯ ﭘﺎس ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ
قاضی مرغی فروش ﮐﻮ ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ اسے ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ, ﺟﺐ قاضی ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ اس نے سر پکڑ لیا ،، اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ ھم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ھیں ،، ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ
قاضی نے پوچھا ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ دعوی ﮐﯿﺎ ھے ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ ، جناب والا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ھے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے
قاضی صاحب ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟
قاضی ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﻪ اور اس کی قدرت ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ،، ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ قاضی صاحب
ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ بھلا کیا مشکل ھے ،، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ خاموش ھو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا
قاضی ،، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ ﻻﺅ، ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ عرض کیا کہ قاضی ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭی ھے ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ
قاضی ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ،، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺁﻧکھ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﻧکھ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ، بس ﺭھنے ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨوں
قاضی ﺗﯿﺴﺮﺍ مقدمہ بھی پیش کیا جائے
ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ عرض کیا کہ قاضی صاحب ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ
قاضی تھوڑی دیر ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ،،، ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭکہ تم لوگ ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ جاؤ ﺍﻭﺭ مدعی ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ مدعی علیہ ﭘﺮ اسی طرح ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ دے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی
نوجوان نے کہا – قاضی صاحب ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮﻣﺮﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ
قاضی نے کہا ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ، میرا کام عدل کرنا ھے – ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ؟
مدعی نے اپنا دعوی واپس لے لیا

نتیجہ: اگر آپ کے پاس آج قاضی کو دینے کے لئے مرغی ھے تو پھر قاضی بھی کل آپ کو بچانے کا ھر ھنر جانتا ھے، اور ہر حد تک جاسکتا ہے

****منقول****

Economy on the rise..

GenialMalik

pakistan-economy-growth

Despite all terrorism/politics/protests/sit-ins/corruption/hindrances from politically motivated oppositions, hindrances from establishment division Pakistan heading towards economic stability and all credit goes to The Prime Minister of Pakistan Mian Mohammad Nawaz Sharif. Recently Pakistan becomes the fastest growing Muslim economy, Moody’s, Fitch & Standard and Poor’s (S&P) ratings agency has raised Pakistan’s credit rating to positive from stable.

Some Important Economic Indicators:

  • Pakistan Stock Market
  • Pakistan GDP
  • Pakistan GDP growth rate/Annual growth rate
  • Pakistan GDP per capita
  • Pakistan GDP per capita (PPP)
  • Pakistan Inflation Rate
  • Pakistan Food Inflation
  • Pakistan Interest Rate
  • Pakistan Exports
  • Pakistan Remittances
  • Pakistan Foreign Exchange Reserves

instead of just talking let’s compare some of the figures from past with todays and decide.

  • Pakistan Stock Market (KSE100):

Stock Exchange have multiple roles in the economy, such as:

  • Raising capital for businesses;
  • Facilitating company growth;
  • Redistribution of wealth;
  • Corporate governance;
  • Investment opportunities for small investors;
  • Government capital raising for development projects;
  • Tax…

View original post 1,739 more words

آپ بھی میٹرو شروع کریں

جاوید چوہدری  جمعـء 5 جون 

آپ ہندوستان میں انگریزوں کی تاریخ ملاحظہ کیجیے، پر تگالی 1434ء میں انڈیا آئے، ہالینڈ کے تاجروں نے 1605ء میں ہندوستان میں قدم رکھا اور برطانوی تاجروں نے 1612ء میں یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا دفتر کھولا، فرانسیسی اور ڈنمارک کے بزنس مین ان کے بعد ہندوستان آئے لیکن یہ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے یہاں قدم نہ جما سکے، یورپی باشندے برصغیر آ گئے لیکن یہاں کی گرمی، گرد، ہیضے اور انفرا سٹرکچر کی کمی نے انھیں بہت جلد پریشان کر دیا، ہندوستان میں آٹھ ماہ گرمی پڑتی تھی۔

حبس کے موسم میں سانس تک لینا دشوار ہوتا تھا، آندھیاں بھی آتی تھیں اور گرد کے طوفان بھی اٹھتے تھے، برسات میں ہیضہ پھوٹتا تھا اور لاکھ لاکھ زندگیاں لے جاتا تھا، انفراسٹرکچر کی حالت یہ تھی ہندوستان میں کوئی ایسی ہائی  وے نہیں تھی جو پورے ملک کو آپس میں ملاتی ہو، پورے ہندوستان میں کوئی پل نہیں تھا، پورے برصغیر میں کوئی پختہ سڑک نہیں تھی، پورے ہندوستان میں اسکولوں، اسپتالوں اور ڈاک کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا، ہندوستان کی حکومت پنجاب، دہلی، گجرات اور بنگال تک محدود تھی، ملک کا ساٹھ فیصد علاقہ خودمختار تھا، ان علاقوں کے حکمران راجے کہلاتے تھے۔

بادشاہ کو ان راجوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا لیکن یہ جس دن تخت کو چیلنج کر دیتے ، مغلوں کی فوج آتی تھی اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپس چلی جاتی تھی ، ہندوستان ایسا کیوں تھا؟ اس کی واحد وجہ دفاع تھا،یہ گرم موسم اور یہ کمزور انفراسٹرکچر دراصل ہندوستان کا ڈیفنس تھا، ہندوستان پر ہزاروں سال سے حملے ہو رہے تھے، مشرقی یورپ، سینٹرل ایشیا، ایران، ترکی اور منگولیا سے لشکر آتے تھے، برصغیر کوفتح کرتے تھے لیکن جلد ہی گرمی،گرد اور ہیضے کی وجہ سے واپس بھاگ جاتے تھے۔

سڑکوں اور پلوں کی کم یابی بھی دفاع تھی، درہ خیبر سے دلی تک راستے میں دس چھوٹے بڑے دریا آتے تھے، دریاؤں میں پانچ ماہ طغیانی رہتی تھی چنانچہ حملہ آور کے پاس کناروں پر رکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا، حملہ آور بار بار رکنے کی وجہ سے تھک جاتے تھے،یہ تھکاوٹ آگے چل کر ان کی شکست کی وجہ بن جاتی تھی، آپ ہندوستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے، ہندوستان کی دس ہزار سال کی تاریخ میں مون سون میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی اور اگرکوئی طالع آزما یہ غلطی کر بیٹھا تو اسے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا،حملہ آور فوجیں مون سون کے سیلابوں کے بعد کشتیوں کے پل بناتی تھیں۔

یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا تھا کیونکہ ہاتھیوں، گھوڑوں، توپوں اور لاکھ لاکھ فوجیوں کو کشتیوں کے پلوں سے گزارنا آسان نہیں ہوتا تھا، آج بھی دریائے جہلم، چناب اور راوی میں ایسی درجنوں توپیں مدفون ہیں جو کشتیوں کے پل بیٹھ جانے کی وجہ سے پانی کا رزق بن گئیں،ہندوستان کی تاریخ میں شیر شاہ سوری پہلا بادشاہ تھا جس نے بنگال سے پشاور ، لاہور سے ملتان اور دہلی سے راجپوتانے تک تین بڑی شاہراہیں بنوائیں، یہ سڑکیں صرف سڑکیں نہیں تھیں، یہ پورا ہندوستان تھیں کیونکہ یہ سڑکیں جہاں جہاں گئیں وہ علاقہ ہندوستان بن گیا اور یہ سڑکیں جہاں ختم ہوگئیں وہاں ہندوستان بھی ختم ہو گیا لیکن ان سڑکوں پر بھی پل نہیں تھے، یہ دریا کے ایک پاٹ پر ختم ہو جاتی تھیں اور دوسرے پاٹ سے دوبارہ شروع ہو جاتی تھیں۔

مسافر گھوڑوں سمیت کشتیوں کے ذریعے دریا پار کرتے تھے، انگریز آیا، ہندوستان دیکھا تو وہ ماضی میں سینٹرل گورنمنٹس نہ ہونے کی وجہ سمجھ گیا، وہ جان گیا ’’ ہم جب تک ہندوستان کو آپس میں نہیں جوڑیں گے، ہم مضبوط حکومت نہیں بنا سکیں گے‘‘ چنانچہ انگریزنے ہندوستان میں انفراسٹرکچر بچھانا شروع کر دیا، اس نے پورے ہندوستان کو سڑکوں، پلوں، ریل، ٹیلی فون، ڈاک، ٹیلی گراف اور ریڈیو سے جوڑ دیا، ہندوستان میں پہلا پل انگریز نے بنوایا، پہلی اسفالٹ روڈ انگریز نے بنوائی اور ریل کا نظام بھی انگریز ہی نے تشکیل دیا، انگریز کی سڑک، ریل اور ٹیلی فون نے پورے ہندوستان کو ملا دیا اور یہ ملاپ انگریز کی مضبوط حکومت کی بنیاد بنا، انگریز سڑک سے محبت کرتا تھا لیکن ہم سڑک، پل اور کھمبے کے خلاف تھے۔

کیوں؟ کیونکہ ہم ہندوستانی سڑک، ریل اور کھمبے کو غلامی کا طوق سمجھتے تھے، کیوں؟ کیونکہ ہم نے ہزاروں سال پلوں اور سڑکوں کے بغیر زندگی گزاری تھی، پلوں اور سڑکوں کی یہ کمی ہمارا جنگی دفاع تھی چنانچہ ہم نفسیاتی طور پر انفراسٹرکچر کے خلاف تھے، آپ ہندوستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے، آپ کو ہندوستان کی ساری تحریکیں سڑکیں توڑتیں، پل گراتیں، ریل کی پٹڑیاں اکھاڑتیں، فون اور بجلی کے کھمبے گراتیں، ڈاک خانوں، ٹیلی گراف آفسز اور انفراسٹرکچر کے ذمے دار محکموں کو آگ لگاتی نظر آئیں گی، ملک میں آج بھی جب احتجاج ہوتا ہے تو لوگ کیا کرتے ہیں؟ لوگ سڑک، پل اور پٹڑی توڑتے ہیں،یہ سرکاری گاڑیوں کو آگ لگاتے ہیں، یہ سرکاری دفتروں پر ہلہ بولتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ ہم آج بھی انفراسٹرکچر کے خلاف ہیں، ہم جسمانی طور پر آزاد ہو چکے ہیں لیکن ہم نفسیاتی طور پر آج بھی غلام ہیں۔

آپ کسی دن ایک دلچسپ ریسرچ کیجیے، آپ پاکستان کی تاریخ کی دس بڑی مخالفتوں کا ڈیٹا نکالیے، آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے، ہماری دس کی دس مخالفتیں ترقی اور انفراسٹرکچر سے متعلق تھیں، ہم لوگ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے آمروں کو حکمران مان لیں گے لیکن ہم کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے، ہم طالبان اور داعش کے خلاف جلوس نہیں نکالیں گے لیکن ہم موٹروے کی مخالفت میں سڑک پر لیٹ جائیں گے، ہم بلدیاتی الیکشن میں ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت کریں گے۔

ہم ایک دوسرے کے خلاف قتل کی ایف آئی آر بھی درج کرائیں گے لیکن ہم پاک چین اقتصادی راہ داری کی مخالفت میں اکٹھے ہو جائیں گے، ہم پچاس پچاس سال قبائلی لڑائیاں لڑیں گے لیکن گیس کی سینٹرل پائپ لائین اڑانے، بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائین توڑنے، گوادر پورٹ بنانے والے چینی انجینئرز کو قتل کرنے اور صوبوں کو آپس میں ملانے والی ہائی ویز روکنے کے لیے اکٹھے بیٹھ جائیں گے، کیوں؟ کیونکہ ہم آج بھی نفسیاتی طور پر اس دور میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں پل، سڑک اور پٹڑی کا نہ ہونا دفاع تھا، ہم آج بھی گھوڑوں، خچروں اور ہاتھیوں کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، یہ ہماری وہ نفسیات ہے جس کی وجہ سے ہم آج ’’میٹرو بس‘‘ جیسے منصوبوں کے بھی خلاف ہیں، ہم انھیں عیاشی سمجھتے ہیں، ہم اگر چند لمحوں کے لیے تعصب کی عینک اتار دیں، ہم چند لمحوں کے لیے ماضی میں پیوست نفسیات کی ٹوپی بھی اتار دیں تو مجھے یقین ہے ہم میٹرو بس منصوبے پر میاں شہباز شریف کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکیں گے،ہم ان کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

یہ درست ہے پنجاب کے حالات آئیڈیل نہیں ہیں، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر ہونا چاہیے، اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں پر بھی توجہ ہونی چاہیے اور سرکاری اداروں کی ری سٹرکچرنگ بھی ہونی چاہیے لیکن آپ اگر ان تمام خامیوں کے باوجود پنجاب کا تقابل باقی تین صوبوں سے کریں تو آپ کو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا، آپ چند دن کراچی میں رہیں، آپ چند دن اندرون سندھ میں گزاریں، آپ بلوچستان کا چکر لگائیں اور آپ خیبر پختونخواہ کے تین بڑے شہروں کا دورہ کریں اور آپ اس کے بعد لاہور،راولپنڈی ، ملتان،فیصل آباد یا سیالکوٹ جائیں ، آپ کو واضح فرق نظر آئے گا، اس فرق کا کریڈٹ بہرحال میاں شہباز شریف کو جائے گا۔

آپ میٹرو کی مثال ہی لے لیجیے، میاں شہباز شریف نے شدید مخالفت کے باوجود10 فروری 2013ء کو لاہور میں میٹروبس سروس چلائی،میں بھی اس منصوبے کا مخالف تھا لیکن میں دو ماہ قبل لاہور گیا، میں نے ٹکٹ لی اور میٹروبس میں سوار ہو گیا، میں گجومتہ سے شاہدرہ تک گیا، آپ یقین کریں یہ سفر شانداربھی تھا آرام دہ بھی، میرے دائیں بائیں بیٹھے لوگ جھولیاں پھیلا کر میاں شہباز شریف کو دعائیں دے رہے تھے، کل راولپنڈی اسلام آباد میں بھی میٹرو بس سروس شروع ہو گئی ، میں نے اس میٹرو میں بھی سفر کیا، یہ میٹرو بھی’’نیا پاکستان‘‘ ہے، آپ بھی میٹرومیں 23کلومیٹر کا سفر کریں،مجھے یقین ہے آپ بھی میاں شہباز شریف کی تعریف پر مجبور ہو جائیں گے، حنیف عباسی میٹرو منصوبے کے چیئرمین ہیں۔

میں نے اس شخص کو دن رات کام کرتے دیکھا، یہ2013ء میں الیکشن ہارگئے لیکن انھوں نے ہار کے باوجود راولپنڈی کے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا ، آپ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے لے کر میٹروبس تک حنیف عباسی کی محنت دیکھئے، آپ ان کی تعریف پر بھی مجبور ہو جائیں گے۔ میٹرو بس جیسے منصوبے ترقی کے استعارے ہوتے ہیں،ہم عوام کو ایسی ترقی سے محروم رکھ کر ترقی نہیں کر سکیں گے، ہم نے آگے بڑھنا ہے تو پھر ہمیں انفراسٹرکچر پر توجہ دینا ہو گی، امریکا اگرآج امریکا ہے، برطانیہ برطانیہ ،فرانس فرانس ،جاپان جاپان اور چین اگر چین ہے تو یہ انفراسٹرکچر کا کمال ہے،آپ کے پاس اگر انفراسٹرکچر نہیں ہو گا تو آپ خواہ کتنے ہی امیر کیوں نہ ہوجائیں آپ ترقی یافتہ نہیں کہلا سکیں گے۔

آپ لائبیریا کی مثال لیجیے، دنیا کے مہنگے ترین ہیرے لائبیریا سے نکلتے ہیں لیکن یہ بکتے پیرس میں ہیں، آپ نے کبھی سوچا لائبیریا لائبیریا کیوں ہے اور پیرس پیرس کیوں؟یہ فرق انفراسٹرکچر کا فرق ہے، لائبیریا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں کا مالک ہونے کے باوجود غریب ہے اور پیرس لائبیریا کے ہیرے بیچ کر امیر ہو گیا، کیوں؟ کیونکہ فرانس انفراسٹرکچر میں آگے ہے،لائبیریا اس وقت تک لائبیریا رہے گا یہ جب تک فرانس جیسا انفرا سٹرکچر نہیں بناتا، ہمارے خطے میں شیر شاہ سوری نے پہلی سڑک بنائی، انگریزوں نے پہلا روڈ نیٹ ورک تشکیل دیا، صدر ایوب خان نے پاکستان میں سڑکوں کا پہلا جال بچھایا اوراب میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سڑکوں، پلوں اور میٹروز پر کام کر رہے ہیں۔

ہم نے سوری کی مخالفت بھی کی، انگریزوں کی بھی، ایوب خان کی بھی اور اب میاں برادران کی مخالفت بھی کر رہے ہیں، آپ کو یاد ہو گا قوم نے 1990ء کی دہائی میں موٹروے کی کتنی مخالفت کی لیکن آج قوم موٹروے کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دے رہی ہے، مجھے یقین ہے ہم کل لاہور اور راولپنڈی کی میٹرو کی تعریف بھی کریں گے،کیوں؟ کیونکہ یہ ہماری عادت ہے، ہم مینگنیوں کے بغیر کسی کو دودھ کا پیالہ پیش نہیں کرتے، ہم اس معاملے میں ثابت قدم ہیں، ہمیں اب بہرحال یہ روایات بدلنا ہوں گی، ہمیں دل بڑا کرنا ہو گا، ہمیں کام کرنے والوں کا احسان بھی ماننا ہو گا، ہمیں ان کی تعریف کرنی ہو گی، ہمیں تاریخ سے ضرور سیکھنا ہوگا، میری دوسرے صوبوں کی قیادت سے بھی درخواست ہے، آپ بھی مہربانی کریں، آپ بھی کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں میٹرو سروس شروع کریں تاکہ عام لوگوں کو سہولت ملے اور یہ آپ کے لیے بھی جھولیاں پھیلا کر دعا کریں۔

ترقی آج کے انسان کا حق ہے اور ہمیں یہ حق انھیں جلد سے جلد دینا ہوگا