یہ بھی کوئی جمہوریت ہے؟

محل کا ماحول بہت سوگوار تھا، چاروں طرف غم اور مایوسی کے بادل چھائےہوئے تھے ، میز کے چاروں طرف لوگ براجمان تھے، لیکن ایک  بڑی سی شاہانہ کرسی خالی تھی، جس پر بادشاہ سلامت نے براجمان ہونا تھا، سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ، لوگ ایک دوسرے سے نگاہیں ملانے سے کترا رہے تھے، دیوار پر قدیم گھڑیال کی سوئی کی ٹک ٹک، خاموشی میں بھی شور مچا رہی تھی، اچانک قدیم لکڑی کے دروازے کے کھلنے کی زوردار آواز سنائی دی تو سب لوگ ہوشیار ہوکر بیٹھ گئے، وہ جانتے تھے بادشاہ سلامت کی آمد ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے تھے کے بادشاہ سلامت سخت غصے میں ہونگے اور ان میں سے کسی ایک یا دو کی شامت آنے والی ہے

بادشاہ سلامت کمرے میں داخل ہوتے ساتھ اپنی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور خاموشی سے میز کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے لوگوں کو باری باری دیکھتے ہیں، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بادشاہ سلامت کی آواز گونجتی ہے: ہاں بولو، کشمیر میں بھی ہم ہار گئے؟ تم لوگوں نے تو بولا تھا کے ہمارا پلڑا بھاری ہے؟ سیٹیں ملیں … وہی بھی دو؟ وہ بھی ایک لاہور کی اور ایک کے پی کے کی؟ کشمیر میں سے تو ایک بھی سیٹ نہیں ملی، اب بولو کیا ہوا ہمارے ساتھ؟

وہ بادشاہ سلامت اصل میں …. بادشاہ کے جہاز رانی کے وزیر نے کچھ کہنے کی کوشش کی. چپ کرو .. بادشاہ سلامت شیر کی طرح دھاڑا، پھر اس کو احساس ہوا کے شیر تو مخالف پارٹی کا انتخابی نشان ہے، فورا جھینپ کر بولا: “یہ بھڑیے کی غراہٹ تھی” … سب باتیں چھوڑوں یہ سوچو کے اب میڈیا پر کیا بولنا ہے، کیا بہانہ بنانا ہے؟ اور بہانہ زوردار قسم کا ہونا چاہیے، پچھلی بار تو تم لوگوں نے مروا دیا تھا، میری بیوی پر کراچی اور ہری پور کی شکست کا سارا الزام لگا کر میری طلاق کروا دی

بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤ تو ایک بات کہوں؟ ایک وزیر اپنی نشت سے کھڑا ہوگیا
بادشاہ بولا : ہاں بولو
سرکار، ہم میڈیا سے یہ بولیں گے کہ کشمیر کا ووٹ کہیں اور ٹرانسفر ہوگیا تھا…وزیر نے فخریہ انداز میں کہا
بادشاہ: پاگل ہو کیا؟ سب سے زیادہ چندے دینے والا وزیر علیم خان ابھی تک پھنسا ہوا ہے جعلی حلف نامے جمع کروانے پر، دوبارہ پھنسنا ہے کیا؟، بیٹھ جاؤ

سرکار میں کوئی آئیڈیا دوں؟ میز پر پڑے سپیکر سے آواز آئی، سپیکر انٹرنیٹ سے منسلک تھا، تم تو چپ کرو فرحان ورک، تمہارا کام مخالفین کے خلاف گھٹیا الزام لگانا اور ٹرینڈ بنانا ہے، اور تم اپنا کام بھی  ٹھیک سے نہیں کر رہے، جب آن لائن آتا ہوں میرے ہی خلاف ٹرینڈز ٹاپ پر ہوتے ہیں، اپنا کام تو ٹھیک سے کرو، اور مائیک پر خاموشی چھا گئی

سرکار میرے پاس ایک آئیڈیا ہے، کیوں نا ہم ووٹوں کی جمع تفریق کرکے ایسے ثابت کریں کہ جیتنے والی پارٹی کے ووٹ ہمارے ووٹ سے کم ہیں؟ ایک وزیر بولا جس کا کام بادشاہ کی ورزش کی تصویریں لگانا تھا

بادشاہ: واہ واہ، نعیم تم تو چھا گئے ہو، زبردست آئیڈیا دیا ہے تم نے، چلو یہی بہانہ فائنل کرتے ہیں ، سب وزیر اپنے اپنے اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ کردو اور میڈیا پر جاکر یہی بولنا کہ  تین چار پارٹیوں کے کل ووٹ جیتنے والی پارٹی سے زیادہ ہیں، یہ بھی کوئی جمہوریت ہے؟ اس سے بہتر تو بادشاہت ہے … ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں صرف اور صرف میری حکمرانی ہو، بادشاہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s