مٹی کے کھلونے

 عبدل نے گھر سے نکلتے ہوئے کہا: اچھا اماں میں جا رہا ہوں
بیٹا…کھو کھو .. ماں نے کھانستے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی
کیا بات ہے اماں؟ عبدل نے پوچھا
بیٹا وہ ڈاکٹر نے کہا تھا دوائی بازار سے خرید لینا، ہسپتال میں دوائی ختم ہوگی تھی، تین سو روپے کی دوائی ہے
اچھا اماں میں آج کوشش کروں گا، دوائی کی پرچی مجھے دے دو
جیتے رہو بیٹا، ماں نے پیار بھری آواز میں کہا
کرن باورچی خانے سے نکل کر ماں اور بھائی کی بات سن رہی تھی، بھائی کے پاس آکر کہنے لگی: بھائی وہ مالک مکان آیا تھا
اچھا؟ کیا کہتا تھا؟ عبدل نے اپنی بہن سے پوچھا
کہنا کیا تھا ، کرائے کا تقاضہ کر رہا تھا، پندرہ سو روپے کے لیے بار بار چکر نہیں لگاسکتا، آج یا کل میں پیسے میرے گھر پر پوھنچا دینا، یہ بولا ہے
اچھ … چھا: عبدل نے بمشکل جواب دیا
اور اپنی مٹی کے کھلونوں اور برتنوں کو اپنی ریڑھی پر لگانے لگا
آج زیادہ لمبا چکر لگاؤں گا تاکہ زیادہ برتن بیچ کر ماں کی دوائی اور کرائے کا کچھ انتظام کرسکوں، کون کون سے علاقے کے چکر لگانے ہیں، لوگ آج کل مٹی کے کھلونے اور برتن کیوں پسند نہیں کرتے، برتن تو کل بارہ سو کے ہیں اس سے اتنے پیسے کیسے جمع ہونگے، یہ سب سوالات کے ساتھ وہ گھر سے نکلا

صبح آٹھ سے گیارہ بچ گئے، ایک برتن بھی نہیں بکا، کسی نے پوچھا بھی نہیں کے مٹی کے برتن اور کھلونے کتنے کے ہیں، لمبا چکر لگانے کے لیے ایک گالی میں گھس گیا، گالی میں گٹر کا ابلتا پانی دیکھ کر اس نے سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی اور ریڑھی کا پہیہ گڑھے میں پھنسا اور پوری رہڑھی الٹ گئی، ایک ایک کرکے سارے مٹی کے برتن اور کھلونے گرنے لگے، کھلونے چور چور ہونے لگے اور عبدل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، سکتے کی حالت میں اپنے مٹی کے برتنوں کو گرتا دیکھ رہا تھا، کانوں میں ماں کی کھانسی اور مالک مکان کی صلواتیں سنائی دینے لگی

میں یہ سب دور سے دیکھ رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ مٹی کے کھلونے والا اپنے کھلونے کیوں نہیں اٹھا رہا اور کیا سوچ رہا ہے؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s