مجھے جانتی ہو؟

راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک قصبے میں وکیل استغاثہ نے گواہ پر جرح شروع کی۔

گواہ قصبے کی سب سے قدیم مائی تھی۔
وکیل بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا: مائی بشیراں، کیا تم مجھے جانتی ہو؟
مائی بشیراں: ہاں قدوس۔ میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں جب تم ایک بچے تھے۔ اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو۔ تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔ ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔

وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: مائی بشیراں تم اس شخص کو جانتی ہو؟

مائی بشیراں: اور نہیں تو کیا عبدالغفور کو نہیں جانتی؟ اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔ چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔ ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔

جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہو تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا
۔۔۔( منقول )۔۔۔

Advertisements

یہ بھی کوئی جمہوریت ہے؟

محل کا ماحول بہت سوگوار تھا، چاروں طرف غم اور مایوسی کے بادل چھائےہوئے تھے ، میز کے چاروں طرف لوگ براجمان تھے، لیکن ایک  بڑی سی شاہانہ کرسی خالی تھی، جس پر بادشاہ سلامت نے براجمان ہونا تھا، سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ، لوگ ایک دوسرے سے نگاہیں ملانے سے کترا رہے تھے، دیوار پر قدیم گھڑیال کی سوئی کی ٹک ٹک، خاموشی میں بھی شور مچا رہی تھی، اچانک قدیم لکڑی کے دروازے کے کھلنے کی زوردار آواز سنائی دی تو سب لوگ ہوشیار ہوکر بیٹھ گئے، وہ جانتے تھے بادشاہ سلامت کی آمد ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے تھے کے بادشاہ سلامت سخت غصے میں ہونگے اور ان میں سے کسی ایک یا دو کی شامت آنے والی ہے

بادشاہ سلامت کمرے میں داخل ہوتے ساتھ اپنی کرسی پر براجمان ہوجاتے ہیں اور خاموشی سے میز کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے لوگوں کو باری باری دیکھتے ہیں، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بادشاہ سلامت کی آواز گونجتی ہے: ہاں بولو، کشمیر میں بھی ہم ہار گئے؟ تم لوگوں نے تو بولا تھا کے ہمارا پلڑا بھاری ہے؟ سیٹیں ملیں … وہی بھی دو؟ وہ بھی ایک لاہور کی اور ایک کے پی کے کی؟ کشمیر میں سے تو ایک بھی سیٹ نہیں ملی، اب بولو کیا ہوا ہمارے ساتھ؟

وہ بادشاہ سلامت اصل میں …. بادشاہ کے جہاز رانی کے وزیر نے کچھ کہنے کی کوشش کی. چپ کرو .. بادشاہ سلامت شیر کی طرح دھاڑا، پھر اس کو احساس ہوا کے شیر تو مخالف پارٹی کا انتخابی نشان ہے، فورا جھینپ کر بولا: “یہ بھڑیے کی غراہٹ تھی” … سب باتیں چھوڑوں یہ سوچو کے اب میڈیا پر کیا بولنا ہے، کیا بہانہ بنانا ہے؟ اور بہانہ زوردار قسم کا ہونا چاہیے، پچھلی بار تو تم لوگوں نے مروا دیا تھا، میری بیوی پر کراچی اور ہری پور کی شکست کا سارا الزام لگا کر میری طلاق کروا دی

بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤ تو ایک بات کہوں؟ ایک وزیر اپنی نشت سے کھڑا ہوگیا
بادشاہ بولا : ہاں بولو
سرکار، ہم میڈیا سے یہ بولیں گے کہ کشمیر کا ووٹ کہیں اور ٹرانسفر ہوگیا تھا…وزیر نے فخریہ انداز میں کہا
بادشاہ: پاگل ہو کیا؟ سب سے زیادہ چندے دینے والا وزیر علیم خان ابھی تک پھنسا ہوا ہے جعلی حلف نامے جمع کروانے پر، دوبارہ پھنسنا ہے کیا؟، بیٹھ جاؤ

سرکار میں کوئی آئیڈیا دوں؟ میز پر پڑے سپیکر سے آواز آئی، سپیکر انٹرنیٹ سے منسلک تھا، تم تو چپ کرو فرحان ورک، تمہارا کام مخالفین کے خلاف گھٹیا الزام لگانا اور ٹرینڈ بنانا ہے، اور تم اپنا کام بھی  ٹھیک سے نہیں کر رہے، جب آن لائن آتا ہوں میرے ہی خلاف ٹرینڈز ٹاپ پر ہوتے ہیں، اپنا کام تو ٹھیک سے کرو، اور مائیک پر خاموشی چھا گئی

سرکار میرے پاس ایک آئیڈیا ہے، کیوں نا ہم ووٹوں کی جمع تفریق کرکے ایسے ثابت کریں کہ جیتنے والی پارٹی کے ووٹ ہمارے ووٹ سے کم ہیں؟ ایک وزیر بولا جس کا کام بادشاہ کی ورزش کی تصویریں لگانا تھا

بادشاہ: واہ واہ، نعیم تم تو چھا گئے ہو، زبردست آئیڈیا دیا ہے تم نے، چلو یہی بہانہ فائنل کرتے ہیں ، سب وزیر اپنے اپنے اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ کردو اور میڈیا پر جاکر یہی بولنا کہ  تین چار پارٹیوں کے کل ووٹ جیتنے والی پارٹی سے زیادہ ہیں، یہ بھی کوئی جمہوریت ہے؟ اس سے بہتر تو بادشاہت ہے … ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں صرف اور صرف میری حکمرانی ہو، بادشاہ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی

مٹی کے کھلونے

 عبدل نے گھر سے نکلتے ہوئے کہا: اچھا اماں میں جا رہا ہوں
بیٹا…کھو کھو .. ماں نے کھانستے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی
کیا بات ہے اماں؟ عبدل نے پوچھا
بیٹا وہ ڈاکٹر نے کہا تھا دوائی بازار سے خرید لینا، ہسپتال میں دوائی ختم ہوگی تھی، تین سو روپے کی دوائی ہے
اچھا اماں میں آج کوشش کروں گا، دوائی کی پرچی مجھے دے دو
جیتے رہو بیٹا، ماں نے پیار بھری آواز میں کہا
کرن باورچی خانے سے نکل کر ماں اور بھائی کی بات سن رہی تھی، بھائی کے پاس آکر کہنے لگی: بھائی وہ مالک مکان آیا تھا
اچھا؟ کیا کہتا تھا؟ عبدل نے اپنی بہن سے پوچھا
کہنا کیا تھا ، کرائے کا تقاضہ کر رہا تھا، پندرہ سو روپے کے لیے بار بار چکر نہیں لگاسکتا، آج یا کل میں پیسے میرے گھر پر پوھنچا دینا، یہ بولا ہے
اچھ … چھا: عبدل نے بمشکل جواب دیا
اور اپنی مٹی کے کھلونوں اور برتنوں کو اپنی ریڑھی پر لگانے لگا
آج زیادہ لمبا چکر لگاؤں گا تاکہ زیادہ برتن بیچ کر ماں کی دوائی اور کرائے کا کچھ انتظام کرسکوں، کون کون سے علاقے کے چکر لگانے ہیں، لوگ آج کل مٹی کے کھلونے اور برتن کیوں پسند نہیں کرتے، برتن تو کل بارہ سو کے ہیں اس سے اتنے پیسے کیسے جمع ہونگے، یہ سب سوالات کے ساتھ وہ گھر سے نکلا

صبح آٹھ سے گیارہ بچ گئے، ایک برتن بھی نہیں بکا، کسی نے پوچھا بھی نہیں کے مٹی کے برتن اور کھلونے کتنے کے ہیں، لمبا چکر لگانے کے لیے ایک گالی میں گھس گیا، گالی میں گٹر کا ابلتا پانی دیکھ کر اس نے سائیڈ سے نکلنے کی کوشش کی اور ریڑھی کا پہیہ گڑھے میں پھنسا اور پوری رہڑھی الٹ گئی، ایک ایک کرکے سارے مٹی کے برتن اور کھلونے گرنے لگے، کھلونے چور چور ہونے لگے اور عبدل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، سکتے کی حالت میں اپنے مٹی کے برتنوں کو گرتا دیکھ رہا تھا، کانوں میں ماں کی کھانسی اور مالک مکان کی صلواتیں سنائی دینے لگی

میں یہ سب دور سے دیکھ رہا تھا، اور سوچ رہا تھا کہ مٹی کے کھلونے والا اپنے کھلونے کیوں نہیں اٹھا رہا اور کیا سوچ رہا ہے؟