آپ بھی میٹرو شروع کریں

جاوید چوہدری  جمعـء 5 جون 

آپ ہندوستان میں انگریزوں کی تاریخ ملاحظہ کیجیے، پر تگالی 1434ء میں انڈیا آئے، ہالینڈ کے تاجروں نے 1605ء میں ہندوستان میں قدم رکھا اور برطانوی تاجروں نے 1612ء میں یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا دفتر کھولا، فرانسیسی اور ڈنمارک کے بزنس مین ان کے بعد ہندوستان آئے لیکن یہ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے یہاں قدم نہ جما سکے، یورپی باشندے برصغیر آ گئے لیکن یہاں کی گرمی، گرد، ہیضے اور انفرا سٹرکچر کی کمی نے انھیں بہت جلد پریشان کر دیا، ہندوستان میں آٹھ ماہ گرمی پڑتی تھی۔

حبس کے موسم میں سانس تک لینا دشوار ہوتا تھا، آندھیاں بھی آتی تھیں اور گرد کے طوفان بھی اٹھتے تھے، برسات میں ہیضہ پھوٹتا تھا اور لاکھ لاکھ زندگیاں لے جاتا تھا، انفراسٹرکچر کی حالت یہ تھی ہندوستان میں کوئی ایسی ہائی  وے نہیں تھی جو پورے ملک کو آپس میں ملاتی ہو، پورے ہندوستان میں کوئی پل نہیں تھا، پورے برصغیر میں کوئی پختہ سڑک نہیں تھی، پورے ہندوستان میں اسکولوں، اسپتالوں اور ڈاک کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا، ہندوستان کی حکومت پنجاب، دہلی، گجرات اور بنگال تک محدود تھی، ملک کا ساٹھ فیصد علاقہ خودمختار تھا، ان علاقوں کے حکمران راجے کہلاتے تھے۔

بادشاہ کو ان راجوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا لیکن یہ جس دن تخت کو چیلنج کر دیتے ، مغلوں کی فوج آتی تھی اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپس چلی جاتی تھی ، ہندوستان ایسا کیوں تھا؟ اس کی واحد وجہ دفاع تھا،یہ گرم موسم اور یہ کمزور انفراسٹرکچر دراصل ہندوستان کا ڈیفنس تھا، ہندوستان پر ہزاروں سال سے حملے ہو رہے تھے، مشرقی یورپ، سینٹرل ایشیا، ایران، ترکی اور منگولیا سے لشکر آتے تھے، برصغیر کوفتح کرتے تھے لیکن جلد ہی گرمی،گرد اور ہیضے کی وجہ سے واپس بھاگ جاتے تھے۔

سڑکوں اور پلوں کی کم یابی بھی دفاع تھی، درہ خیبر سے دلی تک راستے میں دس چھوٹے بڑے دریا آتے تھے، دریاؤں میں پانچ ماہ طغیانی رہتی تھی چنانچہ حملہ آور کے پاس کناروں پر رکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا، حملہ آور بار بار رکنے کی وجہ سے تھک جاتے تھے،یہ تھکاوٹ آگے چل کر ان کی شکست کی وجہ بن جاتی تھی، آپ ہندوستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے، ہندوستان کی دس ہزار سال کی تاریخ میں مون سون میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی اور اگرکوئی طالع آزما یہ غلطی کر بیٹھا تو اسے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا،حملہ آور فوجیں مون سون کے سیلابوں کے بعد کشتیوں کے پل بناتی تھیں۔

یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا تھا کیونکہ ہاتھیوں، گھوڑوں، توپوں اور لاکھ لاکھ فوجیوں کو کشتیوں کے پلوں سے گزارنا آسان نہیں ہوتا تھا، آج بھی دریائے جہلم، چناب اور راوی میں ایسی درجنوں توپیں مدفون ہیں جو کشتیوں کے پل بیٹھ جانے کی وجہ سے پانی کا رزق بن گئیں،ہندوستان کی تاریخ میں شیر شاہ سوری پہلا بادشاہ تھا جس نے بنگال سے پشاور ، لاہور سے ملتان اور دہلی سے راجپوتانے تک تین بڑی شاہراہیں بنوائیں، یہ سڑکیں صرف سڑکیں نہیں تھیں، یہ پورا ہندوستان تھیں کیونکہ یہ سڑکیں جہاں جہاں گئیں وہ علاقہ ہندوستان بن گیا اور یہ سڑکیں جہاں ختم ہوگئیں وہاں ہندوستان بھی ختم ہو گیا لیکن ان سڑکوں پر بھی پل نہیں تھے، یہ دریا کے ایک پاٹ پر ختم ہو جاتی تھیں اور دوسرے پاٹ سے دوبارہ شروع ہو جاتی تھیں۔

مسافر گھوڑوں سمیت کشتیوں کے ذریعے دریا پار کرتے تھے، انگریز آیا، ہندوستان دیکھا تو وہ ماضی میں سینٹرل گورنمنٹس نہ ہونے کی وجہ سمجھ گیا، وہ جان گیا ’’ ہم جب تک ہندوستان کو آپس میں نہیں جوڑیں گے، ہم مضبوط حکومت نہیں بنا سکیں گے‘‘ چنانچہ انگریزنے ہندوستان میں انفراسٹرکچر بچھانا شروع کر دیا، اس نے پورے ہندوستان کو سڑکوں، پلوں، ریل، ٹیلی فون، ڈاک، ٹیلی گراف اور ریڈیو سے جوڑ دیا، ہندوستان میں پہلا پل انگریز نے بنوایا، پہلی اسفالٹ روڈ انگریز نے بنوائی اور ریل کا نظام بھی انگریز ہی نے تشکیل دیا، انگریز کی سڑک، ریل اور ٹیلی فون نے پورے ہندوستان کو ملا دیا اور یہ ملاپ انگریز کی مضبوط حکومت کی بنیاد بنا، انگریز سڑک سے محبت کرتا تھا لیکن ہم سڑک، پل اور کھمبے کے خلاف تھے۔

کیوں؟ کیونکہ ہم ہندوستانی سڑک، ریل اور کھمبے کو غلامی کا طوق سمجھتے تھے، کیوں؟ کیونکہ ہم نے ہزاروں سال پلوں اور سڑکوں کے بغیر زندگی گزاری تھی، پلوں اور سڑکوں کی یہ کمی ہمارا جنگی دفاع تھی چنانچہ ہم نفسیاتی طور پر انفراسٹرکچر کے خلاف تھے، آپ ہندوستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے، آپ کو ہندوستان کی ساری تحریکیں سڑکیں توڑتیں، پل گراتیں، ریل کی پٹڑیاں اکھاڑتیں، فون اور بجلی کے کھمبے گراتیں، ڈاک خانوں، ٹیلی گراف آفسز اور انفراسٹرکچر کے ذمے دار محکموں کو آگ لگاتی نظر آئیں گی، ملک میں آج بھی جب احتجاج ہوتا ہے تو لوگ کیا کرتے ہیں؟ لوگ سڑک، پل اور پٹڑی توڑتے ہیں،یہ سرکاری گاڑیوں کو آگ لگاتے ہیں، یہ سرکاری دفتروں پر ہلہ بولتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ ہم آج بھی انفراسٹرکچر کے خلاف ہیں، ہم جسمانی طور پر آزاد ہو چکے ہیں لیکن ہم نفسیاتی طور پر آج بھی غلام ہیں۔

آپ کسی دن ایک دلچسپ ریسرچ کیجیے، آپ پاکستان کی تاریخ کی دس بڑی مخالفتوں کا ڈیٹا نکالیے، آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے، ہماری دس کی دس مخالفتیں ترقی اور انفراسٹرکچر سے متعلق تھیں، ہم لوگ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے آمروں کو حکمران مان لیں گے لیکن ہم کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے، ہم طالبان اور داعش کے خلاف جلوس نہیں نکالیں گے لیکن ہم موٹروے کی مخالفت میں سڑک پر لیٹ جائیں گے، ہم بلدیاتی الیکشن میں ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت کریں گے۔

ہم ایک دوسرے کے خلاف قتل کی ایف آئی آر بھی درج کرائیں گے لیکن ہم پاک چین اقتصادی راہ داری کی مخالفت میں اکٹھے ہو جائیں گے، ہم پچاس پچاس سال قبائلی لڑائیاں لڑیں گے لیکن گیس کی سینٹرل پائپ لائین اڑانے، بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائین توڑنے، گوادر پورٹ بنانے والے چینی انجینئرز کو قتل کرنے اور صوبوں کو آپس میں ملانے والی ہائی ویز روکنے کے لیے اکٹھے بیٹھ جائیں گے، کیوں؟ کیونکہ ہم آج بھی نفسیاتی طور پر اس دور میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں پل، سڑک اور پٹڑی کا نہ ہونا دفاع تھا، ہم آج بھی گھوڑوں، خچروں اور ہاتھیوں کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں، یہ ہماری وہ نفسیات ہے جس کی وجہ سے ہم آج ’’میٹرو بس‘‘ جیسے منصوبوں کے بھی خلاف ہیں، ہم انھیں عیاشی سمجھتے ہیں، ہم اگر چند لمحوں کے لیے تعصب کی عینک اتار دیں، ہم چند لمحوں کے لیے ماضی میں پیوست نفسیات کی ٹوپی بھی اتار دیں تو مجھے یقین ہے ہم میٹرو بس منصوبے پر میاں شہباز شریف کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکیں گے،ہم ان کو سیلوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

یہ درست ہے پنجاب کے حالات آئیڈیل نہیں ہیں، لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر ہونا چاہیے، اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں پر بھی توجہ ہونی چاہیے اور سرکاری اداروں کی ری سٹرکچرنگ بھی ہونی چاہیے لیکن آپ اگر ان تمام خامیوں کے باوجود پنجاب کا تقابل باقی تین صوبوں سے کریں تو آپ کو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا، آپ چند دن کراچی میں رہیں، آپ چند دن اندرون سندھ میں گزاریں، آپ بلوچستان کا چکر لگائیں اور آپ خیبر پختونخواہ کے تین بڑے شہروں کا دورہ کریں اور آپ اس کے بعد لاہور،راولپنڈی ، ملتان،فیصل آباد یا سیالکوٹ جائیں ، آپ کو واضح فرق نظر آئے گا، اس فرق کا کریڈٹ بہرحال میاں شہباز شریف کو جائے گا۔

آپ میٹرو کی مثال ہی لے لیجیے، میاں شہباز شریف نے شدید مخالفت کے باوجود10 فروری 2013ء کو لاہور میں میٹروبس سروس چلائی،میں بھی اس منصوبے کا مخالف تھا لیکن میں دو ماہ قبل لاہور گیا، میں نے ٹکٹ لی اور میٹروبس میں سوار ہو گیا، میں گجومتہ سے شاہدرہ تک گیا، آپ یقین کریں یہ سفر شانداربھی تھا آرام دہ بھی، میرے دائیں بائیں بیٹھے لوگ جھولیاں پھیلا کر میاں شہباز شریف کو دعائیں دے رہے تھے، کل راولپنڈی اسلام آباد میں بھی میٹرو بس سروس شروع ہو گئی ، میں نے اس میٹرو میں بھی سفر کیا، یہ میٹرو بھی’’نیا پاکستان‘‘ ہے، آپ بھی میٹرومیں 23کلومیٹر کا سفر کریں،مجھے یقین ہے آپ بھی میاں شہباز شریف کی تعریف پر مجبور ہو جائیں گے، حنیف عباسی میٹرو منصوبے کے چیئرمین ہیں۔

میں نے اس شخص کو دن رات کام کرتے دیکھا، یہ2013ء میں الیکشن ہارگئے لیکن انھوں نے ہار کے باوجود راولپنڈی کے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا ، آپ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے لے کر میٹروبس تک حنیف عباسی کی محنت دیکھئے، آپ ان کی تعریف پر بھی مجبور ہو جائیں گے۔ میٹرو بس جیسے منصوبے ترقی کے استعارے ہوتے ہیں،ہم عوام کو ایسی ترقی سے محروم رکھ کر ترقی نہیں کر سکیں گے، ہم نے آگے بڑھنا ہے تو پھر ہمیں انفراسٹرکچر پر توجہ دینا ہو گی، امریکا اگرآج امریکا ہے، برطانیہ برطانیہ ،فرانس فرانس ،جاپان جاپان اور چین اگر چین ہے تو یہ انفراسٹرکچر کا کمال ہے،آپ کے پاس اگر انفراسٹرکچر نہیں ہو گا تو آپ خواہ کتنے ہی امیر کیوں نہ ہوجائیں آپ ترقی یافتہ نہیں کہلا سکیں گے۔

آپ لائبیریا کی مثال لیجیے، دنیا کے مہنگے ترین ہیرے لائبیریا سے نکلتے ہیں لیکن یہ بکتے پیرس میں ہیں، آپ نے کبھی سوچا لائبیریا لائبیریا کیوں ہے اور پیرس پیرس کیوں؟یہ فرق انفراسٹرکچر کا فرق ہے، لائبیریا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں کا مالک ہونے کے باوجود غریب ہے اور پیرس لائبیریا کے ہیرے بیچ کر امیر ہو گیا، کیوں؟ کیونکہ فرانس انفراسٹرکچر میں آگے ہے،لائبیریا اس وقت تک لائبیریا رہے گا یہ جب تک فرانس جیسا انفرا سٹرکچر نہیں بناتا، ہمارے خطے میں شیر شاہ سوری نے پہلی سڑک بنائی، انگریزوں نے پہلا روڈ نیٹ ورک تشکیل دیا، صدر ایوب خان نے پاکستان میں سڑکوں کا پہلا جال بچھایا اوراب میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سڑکوں، پلوں اور میٹروز پر کام کر رہے ہیں۔

ہم نے سوری کی مخالفت بھی کی، انگریزوں کی بھی، ایوب خان کی بھی اور اب میاں برادران کی مخالفت بھی کر رہے ہیں، آپ کو یاد ہو گا قوم نے 1990ء کی دہائی میں موٹروے کی کتنی مخالفت کی لیکن آج قوم موٹروے کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دے رہی ہے، مجھے یقین ہے ہم کل لاہور اور راولپنڈی کی میٹرو کی تعریف بھی کریں گے،کیوں؟ کیونکہ یہ ہماری عادت ہے، ہم مینگنیوں کے بغیر کسی کو دودھ کا پیالہ پیش نہیں کرتے، ہم اس معاملے میں ثابت قدم ہیں، ہمیں اب بہرحال یہ روایات بدلنا ہوں گی، ہمیں دل بڑا کرنا ہو گا، ہمیں کام کرنے والوں کا احسان بھی ماننا ہو گا، ہمیں ان کی تعریف کرنی ہو گی، ہمیں تاریخ سے ضرور سیکھنا ہوگا، میری دوسرے صوبوں کی قیادت سے بھی درخواست ہے، آپ بھی مہربانی کریں، آپ بھی کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں میٹرو سروس شروع کریں تاکہ عام لوگوں کو سہولت ملے اور یہ آپ کے لیے بھی جھولیاں پھیلا کر دعا کریں۔

ترقی آج کے انسان کا حق ہے اور ہمیں یہ حق انھیں جلد سے جلد دینا ہوگا

Advertisements

سقوط ڈھاکہ جیسے نوحے

نازیہ مصطفیٰ

وہ اڑھائی برس کا تھا، جب 1938ء میں اُس کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ شیر خوارگی میں ہی یتیم ہونے پر اُس پر دکھوں کے سائے کچھ اور گہرے ہوگئے، لیکن ماں نے عالی ہمت کے ساتھ محنت مزدوری کرکے اُسے اور اس سے بڑی تین بہنوں کو پالا۔ بچہ بڑا ہونہار تھا ، ماں کی محنت کو اُس نے ضائع نہیں جانے دیا اور کامیابی کے ساتھ تعلیم کی منزلیں طے کرلیں۔ 1959ء میں انگریزی ادب میں ماسٹر کرنے کے بعد مختصر عرصے میں لیکچرر، صحافی اور سرکاری پی آر او کی مختلف ملازمتیں کرنے کے بعد 1964ء میں وہ مسلح افواج میں شامل ہوگیا۔ 1970ء میں اُسے میجرکے رینک پر ترقی دے کر ڈھاکہ میں تعینات کردیا گیا۔اُسکی مشرقی پاکستان میں تعیناتی کے دوران ہی سقوط ڈھاکہ کاسانحہ رونما ہوگیا اور اس میجر کو بھی جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ دوسال بھارتی اسیری میں رہنے کے بعد مشرقی پاکستان کے سانحے کے تناظر میں اُس نے دو اہم کتابیں لکھیں۔ ایک کتاب ’’ہمہ یاراں دو زخ ‘‘ تھی۔ دوسری کتاب ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ میں میجر نے لکھا کہ ’’میںسانحہ مشرقی پاکستان سے کافی عرصہ پہلے ڈھاکا پہنچا تو ہوائی اڈے پر ایک بنگالی نے میرے لیے قلی کا کام سرانجام دیا، میں نے اُس بنگالی کو کچھ پیسے دینے چاہے تو ہوائی اڈے پرمجھے لینے کیلئے پہنچنے والے فوجی افسر نے کہا: سر! ان حرام زادوں کا دماغ خراب نہ کریں‘‘۔ استقبال کیلئے آنیوالے ساتھی فوجی افسر کے اِس کرخت ’’تخاطب اور کلام‘‘پر ششدر رہ جانیوالا شستہ گو فوجی افسر کوئی اور نہیں بلکہ صاحب طرز لکھاری اور ادیب بریگیڈیئر (اُس وقت میجر) صدیق سالک شہید تھا۔

بریگیڈیئر صدیق سالک کے تحریر کردہ اِس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قیام پاکستان کے صرف پندرہ بیس سال بعد ہی پاکستان کے دونوں بازؤوں کے باسیوں کے درمیان تعلقات اور ایک دوسرے کے بعد سوچ کتنے پہلو اور زاویے بدل چکی تھی! اس میں کوئی شک نہیں کہ متحدہ پاکستان کے مقتدر طبقے نے اس بات کو یکسر بھلادیا تھا کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے جبر کے شدید احساس نے بنگالی مسلمانوں میں سیاسی شعور کی سطح کو بلند کیا تھا ، اسی سیاسی شعور کے سبب 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی اور بنگالیوں نے اس سیاسی شعور کو تحریکِ پاکستان کے قالب میں ڈھال دیاتھا،لیکن اب وہی بنگالی ایک خاص سوچ رکھنے والوں کیلئے ’’حرام زادے‘‘ بن چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ پھر وہی ہوا جس کا کسی نے خیال تک نہ کیا تھا کہ جن بنگالیوں نے 1947 میں پاکستان بنایا وہ قیام پاکستان کے محض 24 سال بعد پاکستان سے الگ ہونے پر مائل ہوگئے یا مائل کردئیے گئے؟لیکن جب تک اس خطرے کی شدت کا احساس ہوا تو اُس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔اسی احساس کو بریگیڈیئر صدیق سالک نے اپنی کتاب میں ایک دوسری جگہ اِس طرح لکھا ہے کہ ’’میں ڈھاکا پہنچا تو مجھے میرے فوجی ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ رہنے کے لیے بھاری سامان نہ خریدنا کیونکہ پتا نہیں ہمیں کس وقت یہاں سے جانا پڑ جائے‘‘۔
دشمن تو بلاشبہ تھا ہی کسی موقع کی تاڑ میں لیکن اپنی غلطیوں سے ہم نے یہ موقع پلیٹ میں رکھ کر دشمن کو پیش کردیا، یوں ہماری غلطیوں سے فائدہ اٹھاکر دشمن نے مشرقی پاکستان کے رہنے والوں میں احساس محرومی اور احساس ’’غلامی‘‘ کو خوب پروان چڑھایا اورسانحہ مشرقی پاکستان کے بعد دشمن نے نظریہ پاکستان کو بحر ہند میں غرق کرنے کا مکروہ نعرہ بھی لگایا، لیکن اس کے باوجود بھارت نے پاکستان توڑنے میں اپنے کردار کو کبھی تسلیم نہ کیا تھا، مگر اب پینتالیس برس بعد سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے لیے بنگلہ دیش کی جانب سے اعلیٰ ترین ایوارڈ اور بنگلہ دیش بنانے میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے بیان کے بعد اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ اِس خطے میں بھارت کی بدمعاشی اور دادا گیری کسی ردعمل کا نتیجہ ہے نہ ہی یہ حال ہی میں منکشف ہونے والی کوئی نئی چیز ہے بلکہ بھارتی نیتاؤں کے حالیہ بیانات تو ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کبھی پاکستان کا وجود برداشت نہیں کرپایا۔ اسی لیے تو اپنے دورہ بنگلہ دیش میں بھارت کے موجودہ وزیراعظم نے سینہ تان کر کہا کہ ’’بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی، ہر بھارتی چاہتا تھا کہ آزاد بنگلہ دیش کا خواب حقیقت بنے،جب بنگلہ دیش کے آزادی کی لڑائی لڑنے والے بنگلہ دیشی اپنا خون بہا رہے تھے، تو بھارتی بھی انکے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کر رہے تھے اوراس طرح بھارتیوں نے بنگلہ دیش کا خواب پورا کرنے میں مدد کی‘‘۔وزیر اعظم مودی نے یہاں تک انکشاف نما اعتراف کیا کہ ’’سال 1971ء میں جب بنگلہ دیش کی آزادی کے جنگجوؤں کی حمایت میں دہلی میں ستیہ گرہ تحریک چلی تھی تو ایک نوجوان رضاکار کے طور پر وہ بھی اس میں شامل ہونے آئے تھے‘‘۔
پاکستان عرصہ دراز سے کہے چلا آرہا تھا کہ بھارت اپنے خودمختار ہمسایہ ممالک کیخلاف منفی کردار ادا کررہا ہے اور ان کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں، لیکن عالمی برادری نے کبھی بھارت کے اِس رویے کا نوٹس نہ لیا، البتہ اب نریندر مودی کے بیان سے پاکستانی موقف کی تصدیق ضرور ہوگئی ہے، لیکن المیہ تو یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا مستحق ہونے کے دعویدار بھارتی حکمران نہ صرف اقوامِ متحدہ کے میثاق کی خلاف ورزی کرنیوالے اقدامات میں ملوث ہیں بلکہ دیگر ریاستوں کے داخلی معاملات میں اس مداخلت کی یاد تازہ کرکے اِس پر فخر بھی کرتے ہیں۔جہاں ایک جانب بھارت کا رویہ مجرمانہ ہے تو کیا وہاں بھارتی رویے پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک نہیں ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی کے اعتراف کے بعد یہ بھی ثابت ہوگیا کہ داخلی کمزوریوں کے باوجود 1971ء میں پاکستان توڑنے کی اصل سازش باہر بیٹھے دشمن نے کی تھی لیکن بھارتی وزیراعظم کے اس اعتراف نے پاکستانیوں کے پرانے زخم بھی تازہ کر دیے ہیں اوریہ زخم بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہیںاور المیہ تو یہ ہے کہ آج تک یہ اندرونی زخم مندمل ہوسکے اور نہ ہی ہم نے خود کبھی ان زخموں کا علاج کرنے یا کرانے کی کوشش کی۔ بغداد، غرناطہ، صیقلیہ اور دلی سمیت مسلمانوں کو جتنے بھی سقوطوں کا سامنا کرنا پڑا،وہاں داخلی کمزوری کا عنصر نمایاں رہا اور وہاں دشمن باہر سے جارحیت کرنے آیا تھا لیکن سقوط ڈھاکہ ان تمام میں اس لیے منفرد ہے کہ داخلی کمزوریوں اور اندرونی ریشہ دوانیوں کے سبب مقامی آبادی دشمن کے ساتھ کھڑی ہوگئی یا اُسے ایسا کرنے پر مجبور کردیا گیا اور یوں نوے ہزار مسلم فوجیوں نے تقریبا لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے۔
قارئین کرام !! کیا یہ المیہ نہیں کہ پینتالیس سال گزرنے کے باوجود نہ سقوطِ ڈھاکا کے ذمہ داروں کا تعین ہوا اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی کو سزا دی گئی؟مانا کہ پاکستان کا مشرقی بازو کاٹ کر الگ کرنے کی سازش باہر سے ہوئی، لیکن اس سازش کا توڑ کرنے پر مامور اندر بیٹھے لوگ کیا کررہے تھے؟ یہ بھی تسلیم کہ سانحہ سقوط ڈھاکہ کچھ ’’غداروں‘‘ کی کارستانی کے باعث پیش آیا، لیکن اس سانحے کو روکنے کیلئے محب وطن طبقے نے میدان عمل میں کونسا تیر مارلیا تھا؟یہ بھی بجا کہ بنگلہ دیش کا قیام دشمنوں کی چلی ہوئی خطرناک چالوں کا نتیجہ تھا لیکن اس اہم ترین موقع پر دوستوں نے ہماری کیا مدد کی؟آخر ہم کب تک گلشن کے تنگی داماں کا علاج کرنے کی بجائے کلیوں کی کمی کا رونا روتے رہیں گے؟آخر ہم مستقبل کا مرثیہ لکھنے کے قابل کب ہوں گے، آخر ہم کب تک کبھی سقوط بغداد اور کبھی سقوط صیقلیہ کا ماتم کرتے رہیں گے؟ آخر ہم کب تک سقوط غرناطہ اور سقوط ڈھاکہ جیسے نوحے لکھتے رہیں گے؟

http://www.nawaiwaqt.com.pk/adarate-mazameen/11-Jun-2015/391587

Rohingya Muslim killing and social media

First I want to clear that the massive extremism on Burmese Muslims is strongly condemned and the the silence of media, humane rights organizations is more shameful.

Social media is very active in the situation. Facebook users continually condemn and and express their anger about the heart shocking situation of Rohingya Muslims. And thus I’m thankful to them all to raise voice against the “Burmese government”.

But these days many pictures are being circulated on Facebook regarding Muslims killings in Burma, which is a total hoax and being used by Islamic Extremists in Pakistan to provoke anger and violence in public, here are some of the pictures around the world which are being spread on the name of Muslims Killings

Earth quake in China

Tibatian burn himself on the visit of Chinese President in India

Rohingya

Thai people conflict with police

Purpose of the post:
The purpose of the this post is just to clarify and tell you how social media ignite hatred and prejudice in our youth.

Social media and networking sites, if used properly, can be an impressive tool in spreading awareness amongst its users, but it can be an equally dangerous media as well, if misused.

References:
http://www.bbc.com/news/blogs-trending-32979147
http://www.smh.com.au/articles/2004/10/27/1098667842425.html
http://www.tibetancommunity.be/news/chinaquake.html
https://themuslimissue.wordpress.com/2013/05/11/bangladesh-the-country-of-origin-of-innocent-burmese-muslims-is-on-a-slaughter-spree-of-hindus/