اندھی گولی

کل رات دعوت تھی، ہم سب چھت پر بار بی کیو میں مصروف تھے کے اچانک فائرنگ  کی آواز نے سب کو چونکا دیا ، میں بھی جلدی سے روڈ کی طرف دیکھنے کے لیے چھت کے کونے کی طرف لپکا

نیچے روڈ پے ایک آدمی زمین پے اپنے پیٹ کو پکڑ کے گرا ہوا تھا اور ایک بائیک تیزی سے دوسری طرف جا رہی تھی ، ایک لمحے کے لیے مجھہے لگا کے گرا ہوا آدمی مر چکا ہے لیکن پھر اس کا ہاتھ ہلکا سا ہلنے لگا جیسے وہ مدد کے لیے اشارہ  کر رہا ہو . میں ابھی اس سوچ میں ہی تھا کے کیا کروں ، اپنی گاڑی میں ڈال کے اسے ہسپتال لے کے جاؤں یا ایمبولینس کو فون کرکے بلاؤں، اگر میں ہسپتال لے کر گیا تو پولیس والے تنگ کریں گے .. ایسے میں کچھ پیدل اور کچھ بائیک والے رکنا شروع ہوئے اور گررے ہوئے آدمی کو ہلا کے، اس سے بات کرکے جاننے کی کوسش کر رہے تھے کے ہوا کیا تھا.

پھر ایک رکشا روکا گیا اور اس میں زخمی آدمی کو ڈال کے ہسپتال کی طرف روانہ کردیا گیا ، لیکن میں سوچتا ہی رہ گیا کے مجھے کیا کرنا چاہیے تھا

جب رش ختم ہوا تو زمین پے خون کو دیکھ کے اور زیادہ دکھ ہونے لگا ، پتہ نہیں کون تھا ، کیوں مارا اس کو، کیا گناہ تھا اس کا، بچ بھی سکے گا کے نہیں … گھر میں اس کی فیملی اس کا انتظار تو نہیں کر رہی ہوگی ؟ کیا اس کی بیٹی دروازے پے اس کا ایسے ہی انتظار تو نہیں کر رہی ہوگی جیسے میری بیٹی کرتی ہے ؟ پھر دماغ میں اس بندے سے ملتے ہوئے لوگ آنا شروع ہوگئے کے کہیں وہ تو نہیں تھا ؟ شاید میں اس کو جانتا تو نہیں تھا ؟

لیکن یہ کوئی پہلی دفع ہونے والا واقعہ نہیں تھا ، کراچی میں تو روز ١٠-١١ لوگ اندھی گولی کا شکار ہوجاتے ہیں ، نہ قاتل کبھی پکڑا جاتا ہے نہ لوگوں کو یہ پتہ چلتا ہے کے مرنے والے کا گناہ کیا تھا اور لوگ ایک بےحسی سے اپنی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s