ایک ڈرونا خواب

کل رات میں نے کافی عرصے بعد ایک خواب دیکھا

میں اور میری باجی گلی میں کھیل رہے ہیں. میں شاید پانج سال کا ہوں اور باجی شاید آٹھ سال کی ہیں ، اور ہمارے پاس ایک بوتل میں کوئی عجیب سا محلول  ہے ، جس کا رنگ شاید سنہری ہے یا شاید ہرا ہے (پتہ نہیں خوابوں میں رنگ نظر آتے بھی ہیں یا نہیں).
خیر ہم کچھ شرارت کرنے کا سوچ رہے تھے ، اچانک ہماری نظر ایک آدمی پے پڑی جو گلی کے کونے میں کھڑا ہوا تھا یا کہیں جا رہا تھا ، باجی اور میں نے سوچا اس  آدمی کو وہ محلول پلاتے ہیں اور ہمارا خیال تھا کے یہ محلول پینے سے کوئی جادو ہوگا اور بڑا مزہ آئے گا ، ہم نے اس آدمی کے پاس جاکے اس سے کہا یہ بڑی اچھی چیز ہے اس کو پی کے دیکھیں  اور اس کو وہ چیز پلا دی اور اچانک اس آدمی کی شکل بدلنا شروع ہوگئی اور وہ ایک خونخوار جانور نما انسان بن گیا اور ہمارے پیچھے بھاگنا شروع  ہوگیا.
ہم بھی جان بچانے کے لیے گھر کی طرف بھاگنا شرو ع ہوگئے اور بھاگتے بھاگتے چلا رہے تھے “ہم شیعہ ہیں ہمیں بچاؤ، ہم شیعہ ہیں ہمیں بچاؤ” (جب کے حقیقت میں ہم سنی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں)

باجی اور میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے وہ خوفناک بلا ہم سے صرف ایک قدم پیچھے تھی ، ہم نے فورا دروازہ لاک کیا اور ایک بٹن دبایا جس سے پورے گھر کے چارو طرف ایک لوہے کی دیوار کھڑی ہوگئی اور ہماری جان بچ گئی لیکن ڈر کے مارے ہماری حالت بہت خراب تھی اور ….. میری آنکھ کھل گئی میں نے دیکھا کے ٹی وی ابھی تک چل رہا ہے اور پھر یاد آیا میں نیوز چینل پے ایک خبر دیکھتے دیکھتے سو گیا تھا جس میں ایک  ‘شیعہ’ وکیل جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کہیں جا رہا تھا اس کو ٹارگٹ کرکے مار دیا گیا ہے . اس خبر میں بچوں کے اسکول بیگز بھی دکھائے جا رہے تھے…..جن کو ظالموں نے ان کے باپ کے ساتھ قتل کردیا تھا ، لیکن وہ تو ابھی چھوٹے تھے شیعہ یا سنی کیا ہوتا ہے ان کو تو ابھی اس کا پتہ بھی نہیں تھا ؟

میرا خواب تو صرف ایک ڈرونا خواب تھا لیکن ان معصوم بچوں کا مارنا خواب نہیں تھا اور ان کو بڑوں کے مذہبی اختلاف کی وجہ سے مارا جا چکا تھا…….اور مجھے کل رات سے اسی بات کا افسسوس ہے کے کاش ان معصوم بچوں کا مرنا بھی خواب ہی ہوتا ……کاش !

اندھی گولی

کل رات دعوت تھی، ہم سب چھت پر بار بی کیو میں مصروف تھے کے اچانک فائرنگ  کی آواز نے سب کو چونکا دیا ، میں بھی جلدی سے روڈ کی طرف دیکھنے کے لیے چھت کے کونے کی طرف لپکا

نیچے روڈ پے ایک آدمی زمین پے اپنے پیٹ کو پکڑ کے گرا ہوا تھا اور ایک بائیک تیزی سے دوسری طرف جا رہی تھی ، ایک لمحے کے لیے مجھہے لگا کے گرا ہوا آدمی مر چکا ہے لیکن پھر اس کا ہاتھ ہلکا سا ہلنے لگا جیسے وہ مدد کے لیے اشارہ  کر رہا ہو . میں ابھی اس سوچ میں ہی تھا کے کیا کروں ، اپنی گاڑی میں ڈال کے اسے ہسپتال لے کے جاؤں یا ایمبولینس کو فون کرکے بلاؤں، اگر میں ہسپتال لے کر گیا تو پولیس والے تنگ کریں گے .. ایسے میں کچھ پیدل اور کچھ بائیک والے رکنا شروع ہوئے اور گررے ہوئے آدمی کو ہلا کے، اس سے بات کرکے جاننے کی کوسش کر رہے تھے کے ہوا کیا تھا.

پھر ایک رکشا روکا گیا اور اس میں زخمی آدمی کو ڈال کے ہسپتال کی طرف روانہ کردیا گیا ، لیکن میں سوچتا ہی رہ گیا کے مجھے کیا کرنا چاہیے تھا

جب رش ختم ہوا تو زمین پے خون کو دیکھ کے اور زیادہ دکھ ہونے لگا ، پتہ نہیں کون تھا ، کیوں مارا اس کو، کیا گناہ تھا اس کا، بچ بھی سکے گا کے نہیں … گھر میں اس کی فیملی اس کا انتظار تو نہیں کر رہی ہوگی ؟ کیا اس کی بیٹی دروازے پے اس کا ایسے ہی انتظار تو نہیں کر رہی ہوگی جیسے میری بیٹی کرتی ہے ؟ پھر دماغ میں اس بندے سے ملتے ہوئے لوگ آنا شروع ہوگئے کے کہیں وہ تو نہیں تھا ؟ شاید میں اس کو جانتا تو نہیں تھا ؟

لیکن یہ کوئی پہلی دفع ہونے والا واقعہ نہیں تھا ، کراچی میں تو روز ١٠-١١ لوگ اندھی گولی کا شکار ہوجاتے ہیں ، نہ قاتل کبھی پکڑا جاتا ہے نہ لوگوں کو یہ پتہ چلتا ہے کے مرنے والے کا گناہ کیا تھا اور لوگ ایک بےحسی سے اپنی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں